حیات قدسی — Page 292
۲۹۲ تب ایک فرشتہ نے رہنمائی کی کہ اس تلوار کو زیادہ غور کے ساتھ دیکھنا چاہیئے۔چنانچہ جب میں نے اس کو زیادہ توجہ سے دیکھا تو اس پر اللہ تعالیٰ کے تمام اسماء حسنے لکھے ہوئے نظر آئے ان اسماء کے نیچے محکمہ قضاء قدر کی طرف سے یہ الفاظ تحریر شدہ تھے :۔اللَّهُمَّ لَا يُحْفَظُ مِنَّا إِلَّا مَنْ تَحْفَظُهُ وَلَا نَقْتُلُ إِلَّا مَنْ تَقْتَلُهُ یعنی اے ہمارے صاحب و عظمت و جبروت خدا ہم سے کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔مگر وہی جس کی تو حفاظت کرے اور ہم اسی کو قتل کرتے ہیں جسے تو قتل کرنا چاہتا ہے۔اس الہامی کلام سے جو ذوالفقار پر لکھا ہوا تھا۔مجھے معلوم ہوا کہ ذوالفقار دراصل اللہ تعالیٰ کی صفات جلالیہ کی مظہر بنائی گئی ہے۔اور اس کے کار ہائے نمایاں اسی ہستی کے ساتھ مخصوص کئے گئے ہیں جوصرف نام کے لحاظ سے علی نہ ہو۔بلکہ رض اسم على کا حقیقت میں آئینہ دار ہو۔واللهُ أَعْلَمُ بِإِسْرَارِهِ مثیل ابراہیم علیہ السلام ابـ حضرت حافظ نور محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فیض اللہ چک کے مخلص اور قدیمی صحابی تھے۔جب قادیان میں آتے تو خاکسار کے غریب خانہ پر بھی تشریف لاتے اور ہم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے واقعات کا ذکر کر کے اپنی روح کو تازہ اور دل کو دولتِ ایمان سے پُر کرتے رہتے۔اسی سلسلہ میں ایک دن حافظ صاحب نے مجھے سنایا کہ جب حضور علیہ السلام نے اپنی کتاب براہین احمدیہ شائع فرمائی تو اس میں میں نے آپ کے الہامات پڑھے جن میں آپ کو ابراہیم کے خطاب سے یاد فرمایا گیا تھا۔میرے دل میں شدید خواہش پیدا ہوئی کہ جب قادیان میں اللہ تعالیٰ مثیل ابراہیم بنا سکتا ہے تو فیض اللہ چک میں مجھے اس مقام پر کیوں فائز نہیں کر سکتا۔چنانچہ میں نے متواتر دعا شروع کر دی کہ خدا تعالیٰ مجھے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مثیل بنائے۔آخر ایک دن مجھے ایک فرشتہ نے آواز دے کر کہا:۔