حیات قدسی — Page 11
کہ یہ ہجوم کیسا ہے تو اس نے بتایا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا لشکر ہے۔میں نے دریافت کیا کہ آنحضرت صلعم بھی اس لشکر میں موجود ہیں تو اس نے کہا کہ ہاں حضور بھی موجود ہیں۔یہ سنتے ہی میں نے اپنی جوتیاں وہیں پھینکیں اور بھاگتے ہوئے آنحضور کے لشکر میں جا ملا۔وہاں دیکھا تو مشرقی جانب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نہایت شاہانہ ٹھاٹھ سے ایک ہاتھی کی عماری پر جلوہ فرما ہیں۔اور اس لشکر میں جس کے متعلق یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان پر چڑھائی کرنے والا ہے۔حضور انور صلی اللہ۔علیہ وسلم لوگوں کو بھرتی فرما رہے ہیں۔چنانچہ اپنے گاؤں کے لوگوں میں سے اس وقت میں ہی حضور اقدس کی خدمت عالیہ میں آگے بڑھا اور تسلیمات عرض کرنے کے بعد اس لشکر میں بھرتی ہو گیا۔اس کے بعد ہم تمام فوجیوں کو برچھیاں دی گئیں اور حکم ملا کہ تم نے خنزیروں کو قتل کرنا ہے۔ازاں بعد اچانک نظارہ بدلا اور ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ہمارے چاروں طرف بڑے بڑے فربہ خنزیر ہیں جنہیں ہم نے قتل کرنا شروع کر دیا ہے اور جو خنزیر کسی سے قتل نہیں ہوتا میں برچھی کے ایک وار سے اسے وہیں ڈھیر کر دیتا ہوں۔اس رویائے صادقہ کے بعد خدا تعالیٰ نے مجھے ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں تبلیغ ہدایت کا موقع عطا فرمایا اور اس مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل جس کی علامت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے يقتل الخنزير و يكسر الصليب قرار دی ہے مجھے ہزاروں مرتبہ ایسے خنزیر صفت لوگوں کے مقابلہ میں اپنے فضل سے نمایاں فتح نصیب فرمائی ہے۔اس رویا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہندوستان پر چڑھائی کرنے سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ حضور کی بعثت ثانیہ اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے ہندوستان کا ملک ہی مقدر ہے اور دوسرے اس رُباعی کی بھی تصدیق ہوتی ہے۔جو کسی گذشتہ بزرگ نے مرقوم فرمائی ہے كانت لادم ارض الهنــد مـنـهبـطــاً وفيه نور رسول الله مشعُولُ من ههنا مستبين ان مهديـــنــــا مهند من سيوف الله مسلول