حیات قدسی — Page 241
۲۴۱ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی نوٹ بک دیکھوں کہ اس میں کس قسم کی باتیں نوٹ کی گئی ہیں۔چنانچہ میں نے باوجود حضور اقدس کے احترام کے حضور سے اس بات کی درخواست کر دی کہ میں حضور کی نوٹ بک دیکھنا چاہتا ہوں۔حضور نے بلا تامل اپنی نوٹ بک بھجوا دی۔جب میں نے اسے ملاحظہ کیا تو اس کے پہلے ہی صفحہ پر اهْدِنَا الصِّرَاط المُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔۔۔۔۔وَلَا الضَّالِّينَ کی دعا لکھ کر اس کے نیچے حضور نے یہ نوٹ دیا ہوا تھا کہ اے خدا تو مجھ پر راضی ہو جا اور راضی ہونے کے بعد پھر کبھی بھی مجھ پر ناراض نہ ہونا۔میں نے جب یہ نوٹ پڑھا تو مجھے بہت ہی فائدہ ہوا اور میں دعائے فاتحہ کے پڑھتے وقت ہمیشہ ہی اس نکتہ کو لوظ رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھ سے راضی ہو جائے اور راضی ہو کر پھر کبھی بھی ناراض نہ ہو۔احمد یہ مساجد کی بنیاد اس عبد حقیر پر خدا تعالیٰ نے سیدنا حضرت مسیح مہدی علیہ السلام کے طفیل بے شمار افضال و برکات نازل کی ہیں۔ان میں سے بعض مساجد احمدیہ کی بنیا درکھنے کی سعادت بھی ہے جو مجھ کو حاصل ہوئی۔۱۹۱۹ء میں جب میں مالا بار کے علاقہ میں عزیز محترم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی کی معیت میں تبلیغی اغراض کے لئے گیا تو وہاں پر ایک تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے باوجود میری علالت کے پچاس افراد کو بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت کا موقع ملا اور دوسرے ایک صاحب غلام محی الدین صاحب کنجی مرحوم جو مخلص اور آسودہ حال احمدی تھے نے شہر پین گاڑی میں ایک موقع کی جگہ دکھا کر مجھ سے کہا کہ میں یہ جگہ مسجد کے لئے دینا چاہتا ہوں اور آپ چونکہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے ہیں اس لئے اس مسجد کا سنگ بنیا د آپ کے ہاتھ سے رکھنا چاہتا ہوں۔چنانچہ بہت سے افراد کی معیت میں بفضلہ تعالیٰ پین گاڑی کی اس مسجد کا سنگ بنیاد میں نے رکھا۔اب اس علاقہ میں خدا کے فضل سے بہت سے مخلص اور بڑی جماعت پائی جاتی ہے۔اسی طرح ایک دفعہ ڈیرہ دون کی جماعت کی طرف سے سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے حضور درخواست کی گئی کہ وہاں کی احمد یہ مسجد کا سنگ بنیا در کھنے کے لئے حضوراقدس خود تشریف لائیں یا کسی صحابی کو اس غرض کے لئے بھجوائیں۔چنانچہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے