حیات قدسی — Page 240
۲۴۰ علم و قدامت کی تجلی سے ہے نقش کائنات صنعت ایجاد کا قبل اس کے راز افشا نہ تھا كاف ونون اصل ہے مفتاح ان اسرار کی کون جانے کیوں ہوا پیدا کہ جو پیدا نہ تھا کنت کنزاً کی حقیقت گو محبت سے کھلی لیک جز اپنے خدا تو غیر پر شیدا نہ تھا قدسیوں کا غلغلہ ہے قدس کے اسرار سے راز پنہاں کہ تماشہ منظر اخ جلوه تکوین سے عالم تماشا کہ بنا نہ تھا منظر تخلیق بن منظر کوئی اجلے نہ تھا حسن ہی تھا گو جہاں میں ہر طرف جلوہ نما ایک سوز عشق شمع سے جدا پروانہ تھا ہو گئے جب ختم زینے معرفت کے خلق میں آ گیا خالق نظر ایسا کہ کچھ پردہ نہ تھا معرفت اور عشق دونوں پر تھے اس پرواز کے اس سے بڑھ کر سیر قدسی کے لئے آلہ نہ تھا جذبہ احسان سے محسن کے عاشق ہو گئے ہاں شناخت کر لیا محبوب جو اخفے نہ تھا شکر اللہ مل گیا ہم کو بھی مقصود حیات ورنہ میرے جیسا کوئی احقر و ادنیٰ نہ تھا حضرت اقدس علیہ السلام کی نوٹ بک ایک دفعہ حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ نے ایک مجلس میں جس میں خاکسار بھی موجود تھا۔بیان فرمایا کہ ایک دن میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں