حیات قدسی

by Other Authors

Page 228 of 688

حیات قدسی — Page 228

۲۲۸ مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی سے مناظرہ جب میں پیر کوٹ آیا تو اونچے مانگٹ کے احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان مناظرہ کرانے کی تحریک ہو رہی تھی۔غیر احمدیوں نے مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹی کو منتخب کیا اور احمدیوں کی طرف سے مجھے مقرر کیا گیا۔چنانچہ مقررہ تاریخوں پر میں لاہور سے اور مولوی ابراہیم صاحب سیالکوٹ سے اونچے مانگٹ پہنچ گئے۔یہ غالباً ۱۹۱۰ء کا واقعہ ہے اس بحث کے موقع پر لوگ دور دراز سے جمع ہوئے۔حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی رضی اللہ عنہ وزیر آباد سے پہنچ گئے حضرت مولوی غوث محمد صاحب سعد اللہ پور سے آئے اور مولوی غلام رسول صاحب لنگہ ضلع گجرات سے آئے۔یہ مناظرہ ہزار ہا کے مجمع میں دو دن تک جاری رہا پہلا موضوع بحث وفات مسیح اور دوسرا ختم نبوت اور صداقت مسیح موعود قرار پایا۔جب آیت يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى 18 کے متعلق بحث شروع ہوئی تو کو مولوی محمد ابراہیم صاحب نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کو یا عیسی کہہ کر مخاطب کیا تو عیسی کے مفہوم میں عیسی مع جسم اور روح مراد تھا اور ان دونوں کا مجموعہ متوفیک اور رافعک کی ضمیر مخاطب میں بھی پایا جاتا ہے کیونکہ ضمیر مخاطب کا مرجع عیسی ہی ہے۔اور جب رافعک کی ضمیر مخاطب کا مرجع عیسی ٹھہرا تو رفع بھی روح مع جسم دونوں کا وقوع میں آیا اور اس سے ثابت ہو گیا کہ حضرت عیسیٰ مع جسم کے مرفوع الی السماء ہو گئے۔۔اس کے جواب میں جو کچھ میں نے عرض کیا وہ خلاصہ یہ تھا کہ :۔(۱) رافعک سے پہلے متوفیک کا لفظ ہے اور متوفیک کے لفظ کا رافعک سے پہلے ہونا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ رفع جو توفی کے وقوع کے بعد ہوا روح کا رفع ہے نہ کہ جسم مع روح کا۔اس لئے مولوی صاحب کا استدلال درست نہیں۔(۲) رافعک التی کے فقرہ میں رفع سے رفع الی السماء مراد نہیں لیا جا سکتا۔کیونکہ یہاں پر رفع الی اللہ کو پیش کیا گیا ہے اور اس سے مراد بلحاظ قرب الہی رفع درجات ہے اس کی مثال قرآن کریم میں يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَالَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَتٍ 19 اور وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعُنهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ 20 ہے ان دونوں آیات میں رفع سے مرا در وحانی رفع