حیات قدسی

by Other Authors

Page 229 of 688

حیات قدسی — Page 229

۲۲۹ بلحاظ رفع درجات ہی ہے اور دوسری آیت میں اَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ کے الفاظ بھی موجود ہیں۔جس کے مقابل آسمانی رفع اور جسمانی رفع کی طرف اشارہ پایا جاسکتا ہے۔پھر بھی یہاں پر رفع جسم مراد نہیں لیا جاتا بلکہ رفع درجات سمجھا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا میں ورفعنی کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں اس میں بھی رفع سے مرا درفع درجات ہی ہے۔اسی طرح حديث إِذَا تَوَاضَعَ الْعَبَدُ رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ میں ساتویں آسمان تک کے رفع کا ذکر ہے لیکن پھر بھی اس سے مراد روحانی اور درجات کا رفع لیا جاتا ہے۔ان آیات اور احادیث سے استدلال کرتے ہوئے میں نے بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ فاعل ہو اور انسان مفعول ہو اور فعل رفع ہو تو اس سے مرا درفع درجات ہی ہوتا ہے۔مولوی ابراہیم صاحب کی طرف سے تردید میرے اس بیان پر مولوی ابراہیم صاحب نے دوباتیں بطور تر دید پیش کیں۔ایک یہ کہ متوفیک دراصل رافعک کے بعد بصورت مقدم و موثر پایا جاتا ہے اس کی تائید میں انہوں نے سورۃ نحل کی آیت وَاللهُ اَخْرَجَكُمْ مِنْ بُطُونِ أُمَّهِتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْئًا * وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ : لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ 21 پیش کی۔جس میں ان کے خیال میں تقدیم و تاخیر پائی جاتی ہے۔دوسری بات انہوں نے یہ پیش کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم شب معراج میں مع جسم کے آسمان پر گئے تھے جو قرآن کریم میں بھی سُبُحْنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ سے ثابت ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رفع جسمانی اور صعود الی السماء انسان کے لئے ناممکن نہیں۔میرا جواب پہلی بات کے متعلق میں نے جواب دیا کہ قرآن کریم کی کسی آیت یا لفظ کو مقدم و موخر کرنا یہ وہی تحریف ہے جو یہودی کیا کرتے تھے۔اور جس کی قرآن کریم میں مذمت کی گئی ہے باقی رہا مولوی صاحب کا سور محل کی مذکورہ بالا آیت سے استدلال تو یہ بالکل نا درست ہے اس میں مقدم فقرہ یعنی والله اخرجكم من بطون امهاتكم معانی کے اعتبار سے اور واقعہ بھی مقدم ہے۔کیونکہ