حیات قدسی — Page 227
۲۲۷ مجھے ندامت اور تکلیف سے بچالیا۔حضرت کا یہ نکتۂ معرفت اپنے ماخذ کے لحاظ سے قرآن کریم سے ہی لیا گیا ہے۔قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں کے قربانی کرنے کا ذکر ہے لیکن ان میں سے صرف ایک بیٹے کی قربانی بوجہ تقوی شعاری کے قبول ہوئی اور دوسرے کی قربانی رد کر دی گئی۔مباحثہ مانگٹ اونچے سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے عہد سعادت میں جب میں لا ہور میں جماعت کی تعلیم و تربیت اور تبلیغ کے لئے مقیم تھا تو چند دن کے لئے مجھے اپنے سرال موضع پیر کوٹ تحصیل حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ جانے کا اتفاق ہوا۔پیر کوٹ سے تقریباً ایک میل کے فاصلہ پر ایک بڑا گاؤں مانگٹ اونچے واقع ہے جہاں خدا کے فضل سے آج کل بہت بڑی جماعت ہے۔لیکن ان ایام میں صرف چند افراد احمدی تھے جو بہت ہی مخلص اور پر جوش تھے۔ان میں سے چوہدری ناصر دین صاحب چوہدری چوہڑ خاں صاحب، میاں محمد دین صاحب ما نگر اور چوہدری جہاں خاں صاحب۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے اور چوہدری جہاں خاں صاحب کے علاوہ سب کے سب حضرت مولانا حکیم جلال دین صاحب پیر کوٹی کے تعلق اور تبلیغ سے احمدی ہوئے تھے۔آخری صحابی چوہدری جہاں خاں صاحب نے اس وقت بیعت کی جب سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام آخری دفعہ لا ہور تشریف لائے۔حضور اقدس کے وصال سے ایک دو دن قبل میں نے حضور کی خدمت کے میں چوہدری جہاں خاں صاحب کو پیش کر کے ان کی بیعت کروائی اور میرے علم کے مطابق ان کے بعد اور کسی شخص کو حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کے دست مبارک پر بیعت کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ حضور اقدس اس کے بعد اچانک بیمار ہو گئے اور پھر حضور کا وصال ہو گیا۔لہذا میری دانست میں چوہدری جہان خاں صاحب حضرت اقدس کے آخری صحابی ہیں۔واللہ اعلم بالصواب