حیات قدسی — Page 188
۱۸۸ میں نے جب نواب صاحب سے یہ بات سنی تو بوجہ غیرت احمدیت اور احساس عزت سلسلہ حقہ میرا قلب جوش سے بھر گیا اور میں نے تخلیہ میں سربسجود ہو کر دیر تک نہایت تضرع اور خشوع و خضوع و سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی جس پر میں نے کشفاً دیکھا کہ ایک دروازہ دوقفلوں سے بند ہے۔میں نے قوت ارادی اور توجہ سے دل میں یہ یقین کرتے ہوئے کہ میرے ہاتھ لگانے سے ہی بفضلہ تعالیٰ یہ دونوں قفل کھل جائیں گے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔میرا ہاتھ مس ہوتے ہی چشم زدن میں دونوں قفل کھل گئے۔مجھے اس کشف کی یہ تفہیم ہوئی کہ دو سال کی مزید توسیع نواب صاحب کو مل جائے گی۔میں نے اس کشف اور تفہیم کا ذکر اسی وقت حضرت حافظ ملک محمد صاحب برادر کلاں 1 جناب ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور عزیز میاں محمد لقمان صاحب جالندھری سے بھی کر دیا۔جناب نواب صاحب نے یہ سن کر فرمایا کہ موجودہ مخالفانہ حالات میں تو ایک سال کی توسیع بھی محال نظر آتی ہے۔چہ جائیکہ دو سال کی مزید توسیع ملے۔جب درخواستوں کے فیصلہ صادر ہونے میں صرف آٹھ دن باقی رہ گئے تو نواب صاحب نے ذکر فرمایا کہ آج مجھے شہر سے بہت ہی مایوس کن و رپورٹیں ملی ہیں اور سب لوگ میری مخالفت میں سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔تب میں نے احمدیت کی عزت اور غیرت کی خاطر جوش سے بھر کر پھر دعا کی تو مجھے بتایا گیا کہ جو اطلاع اس سے پہلے کشف کے ذریعہ دی گئی ہے وہ درست ہے اور نواب صاحب کو محض احمدیت کی عزت کی وجہ سے کامیابی ہوگی اور دوسال کی توسیع ملے گی۔چنانچہ میں نے نواب صاحب کو دوسرے احباب کی موجودگی میں یہ تسلی بخش اطلاع دی۔تب انہوں نے پھر مخالفانہ حالات کا ذکر کیا اور حالات کے پیش نظر مایوسی کا اظہار کیا۔میں نے نواب صاحب کو یقین دلایا کہ حالات خواہ کس قدر مایوس کن ہوں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو اطلاع ملی ہے وہ کچی ہے اگر آپ مزید تسلی چاہیں تو میں یہ بشارت لکھ کر بھی آپ کو دے سکتا ہوں۔اس پر نواب صاحب نے فرمایا لکھنے کی ضرورت نہیں آپ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی ہیں مجھے آپ کی زبانی بات پر بھی یقین ہے۔چنانچہ نواب صاحب نے اس بشارت کا ذکر اپنے گھر میں جا کر بھی کیا۔جب حکم سنانے میں صرف دو دن باقی رہ گئے تو میں نواب صاحب کی کوٹھی سے جو شہر سے تین چار میل کے فاصلہ پر تھی شہر میں احمد یہ جو بلی ہال میں چلا گیا۔وہاں پر بھی دو دن میں نے تخلیہ میں بہت