حیات قدسی

by Other Authors

Page 187 of 688

حیات قدسی — Page 187

۱۸۷ کے قلم سے جو سلطان القلم “ ہونے کا مدعی ہو نہیں نکلنا چاہیئے۔جواب میں نے جواباً عرض کیا کہ یہ کلام شاعرانہ تک بندی نہیں بلکہ جیسا کہ اشتہار کے عنوان سے ظاہر ہے خدا تعالیٰ کی وحی کی روشنی میں لکھا گیا ہے۔اور واقعات اور حقائق کے مطابق ہے۔ان دونوں مصرعوں میں زلزلہ کے دو قسم کے اثرات اور نتائج ظاہر کئے گئے ہیں یعنی ایک زمین کا زیروز بر ہونا اور دوسرے سیلاب کا آنا۔پھر میں نے ایک اخبار جس میں صوبہ بہار کے علاقہ مونگھیر کے زلزلہ کی تفصیلات درج تھیں ، کھول کر معترض صاحب کے سامنے رکھا اور کہا کہ اس میں درج شدہ تفصیل کو پڑھیں۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے شعر کے عین مطابق یہ زلزلہ بھی وقوع میں آیا ہے۔یعنی ایک طرف تو زلزلہ کی جنبش سے زمین تہ و بالا ہوگئی اور ساتھ ہی زمین کے شق ہونے سے اندر سے چشموں کی طرح پانی پھوٹ پڑا اور ایک وسیع علاقہ میں سیلاب آ گیا۔بلکہ یہاں تک ہوا کہ بعض حصوں میں دریائے گنگا کا پانی الٹا بہنا شروع ہو گیا۔جب معترض صاحب نے زلزلہ کی شائع شدہ تفصیلات پڑھیں اور ادھر شعر کا مضمون دیکھا تو دم بخود ہو کر خاموش ہو گئے۔فالحمد للہ علی ذالک حیدر آباد دکن میں احمدیت کی اعجازی برکت کا نشان ۱۹۳۵ء میں خاکسار مرکز کی ہدایت کے ماتحت گیارہ ماہ تک حیدر آباد دکن میں مقیم رہا۔اس کے دوران میں ایک دفعہ جناب محترم نواب اکبر یار جنگ بہادر نے اطلاع دی کہ ان کی ہائیکورٹ کی جی کی ملازمت ختم ہونے پر مزید ایک سال کی توسیع ان کو مل چکی ہے۔یہ توسیع بھی اب ختم ہونے کو ہے مزید توسیع کے لئے انہوں نے نظام صاحب حیدر آباد کے پاس درخواست دی ہوئی ہے۔لیکن بہت سے امیدوار جو اس عہدے پر فائز ہونے کے متمنی ہیں اس کوشش میں ہیں کہ مزید توسیع نہ ملے اور بڑے بڑے ارکان حکومت جن میں بعض وزرا بھی شامل ہیں ، ان کو توسیع دیے جانے کے خلاف ہیں۔نیز سجادہ نشین اور علماء بھی بوجہ ان کے احمدی ہونے کے سخت مخالف ہیں اور حضور نظام پر ہر طرح سے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔