حیات قدسی — Page 189
۱۸۹ الحاح و تضرع سے دعا کی۔جس دن حکم سنانے کا دن تھا اس کی صبح کی نماز کی جب میں سنتیں پڑھ رہا تھا تو میں نے سجدہ کی حالت میں ایک کشفی نظارہ دیکھا کہ نظام میر عثمان علی خاں بالقابہ کرسی پر بیٹھے ہیں اور ان کے سامنے میز رکھی ہوئی ہے۔جس پر ایک کاغذ پڑا ہے۔اور وہ اس پر کچھ لکھنے لگے ہیں میری نظر بھی کاغذ پر پڑ رہی ہے جو کچھ انہوں نے کاغذ پر لکھا یہ تھا۔” نواب اکبر یار جنگ کو دو سال کی توسیع دی جاتی ہے۔اس کے بعد کشفی حالت جاتی رہی نماز کے بعد میں نے اس کشف کا ذکر احباب کے سامنے جو دس گیارہ کے قریب تھے ، کر دیا۔اتفاق سے تھوڑی دیر کے بعد جناب نواب صاحب بھی تشریف لے آئے تو جملہ احباب نے جو جو بلی ہال میں موجود تھے نواب صاحب سے میرے کشف کا ذکر کر کے مبارک باد دی نواب صاحب نے تعجب کا اظہار فرمایا۔کیونکہ رات کو جو تازہ اطلاعات ان کو ملی تھیں وہ بہت ہی مایوس کن تھیں اور سوائے میری خوشخبری کے جو من جانب اللہ تھی اور کوئی بات بھی حق میں نظر نہ آتی تھی۔نواب صاحب حضور نظام کے پاس جانے کے لئے تیار ہو کر آئے تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک خوبصورت جلد والی کتاب جو ریشمی غلاف میں لپٹی ہوئی تھی پکڑی ہوئی تھی یہ سید نا حضرت اقدس کی کتاب در مشین فارسی تھی جو وہ نظام حیدر آباد کو بطور تحفہ پیش کرنے کے لئے لائے تھے۔جب نواب صاحب نظام کے حضور حکم سننے کے لئے پہنچے تو اتفاق سے وہ بہت سے وہ بہت خشمگیں تھے اور کسی درباری پر بوجہ غلطی خفا ہو رہے تھے حضور نظام کو اس حالت میں دیکھ کر نواب صاحب کو اور بھی فکر پیدا ہوئی۔جب نواب صاحب نظام صاحب کے حضور پہنچے اور اپنی توسیع کے بارہ میں حکم صادر فرمانے کے لئے عرض کیا تو نظام حیدر آباد نے قلم و دوات اور کاغذ لے کر میز پر رکھا اور نواب صاحب کے لئے مزید دوسال کے لئے توسیع کا حکم صادر کر دیا اور حکم نامہ نواب صاحب کے ہاتھ میں دے کر دو چار منٹ میں نواب صاحب کو رخصت کر دیا۔فالحمد للہ علی ذالک واپسی پر نواب صاحب محترم سید ھے احمد یہ جو بلی ہال میں آئے اور آبدیدہ ہو کر دیر تک میرے ہاتھ کو بوسہ دیتے رہے اور فرمایا کہ میں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت تو نہیں کی لیکن حضور کی برکت سے آپ کے ایک صحابی کے ذریعہ سے ہمارے لئے ایک عظیم الشان معجزہ ظاہر ہوا اور ہمارے لئے ایمان میں زیادتی کا باعث بنا۔نواب صاحب محترم کی بیگم صاحبہ اس وقت تک