حیات قدسی

by Other Authors

Page 159 of 688

حیات قدسی — Page 159

۱۵۹ دعائے سیدنا حضرت علی کرم اللہ وجھہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مندرجہ ذیل مضطر انہ دعائیہ اشعار سے بھی میں نے بارہا استفادہ کیا ہے اور ان کو خاص حالت میں بہت موثر پایا ہے۔(۱) يَا مَنْ إِلَيْهِ الْمُشْتَكَى وَالْمَفْزَعُ أَنْتَ الْمِعدُ لِكُلِّ مَا يُتَوَفَّعُ۔(۲) مَالِی سِوىٰ قَرُعِى لِبَابِكَ حِيْلَةٌ وَلَئِنْ رَّدَدْتَ قَأَيِّ بَابٍ أَقْرَعُ۔(۳) يَأْمَنُ خَزَائِنُ فَضْلِهِ فِى قَوْلِ كُنْ أُمِّنُنُ فَإِنَّ الْخَيْرَ عِنْدَكَ أَجْمَعُ ترجمہ: (۱) اے وہ بزرگ ترین اور مرجع خلائق ہستی جس کے بے پایاں رحم اور بے انتہا رافت کے باعث ہر ایک نا کامی اور نامرادی کا شکوہ اور شکایت کرنے والے اور جزع فزع کی حالت میں اپنی فریاد پیش کرنے والے تیری ہی طرف اپنے دل کے اطمینان اور کامیابی کے لئے دوڑے چلے آتے ہیں۔تو ہی قادر مطلق اور حجیم کریم ہستی ہے جو ہر متوقع امر کو وقوع میں لانے پر قدرت رکھتی ہے۔(۲) میری حالت زار اور بے بسی کا یہ عالم ہے کہ مجھے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ اپنی امید کی دستک سے تیرے بے پایاں رحم کے دروازے کو ہی کھٹکھٹاؤں۔اب اے میرے محسن و خالق خدا اگر تو نے ہی مجھے اپنے دروازہ سے محروم کر کے لوٹا دیا تو میں تیرے سوا اور کس کا دروازہ کیسے کھٹکھٹاؤں گا ؟ (۳) اپنے رحم و کرم کے لحاظ سے بے مثال ہستی جس کے فضل کے خزانے ”کن“ کے قول کے اندر پائے جاتے ہیں تو مجھے حقیر اور بے نوا پر بھی اپنا احسان و کرم فرما تیرے پاس تو ہر خیر و برکت اور حاجت روائی کے سامان اور ذخیرے جمع ہیں۔شراب نوشی سے تو بہ حضرت منشی احمد دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ گوجرانوالہ ( پنجاب ) میں اپیل نویس تھے۔وہ دراصل موضع بلّے والے ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے بعد میں گوجرانوالہ میں مقیم ہو گئے بہت مخلص اور علم دوست احمدی تھے۔ان کی ایک بڑی لائبریری بھی تھی جس کی بہت سی کتب بعد میں قادیان کی لائبریری میں بھی شامل کی گئیں۔آپ ایک عرصہ تک حضرت نواب محمد علی خاں صاحب