حیات قدسی — Page 160
17۔رضی اللہ تعالیٰ عنہ آف مالیر کوٹلہ کے ہاں بھی ملازم رہے۔منشی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۱۹۰۵ء میں ایک دفعہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت کے لئے قادیان حاضر ہوئے۔حضرت اقدس ان دنوں باغ میں قیام فرما تھے اور حضور کا یہ حقیر غلام بھی وہیں باغ میں حضور کے قدموں میں حاضر تھا اور حضرت مولانا حکیم مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے طب کی بعض کتب بھی پڑھا کرتا تھا۔منشی صاحب اپنے ساتھ اپنے ایک غیر احمدی وکیل دوست کو بھی گوجرانوالہ سے لائے۔ان کے یہ دوست شراب نوشی کی عادت کا بری طرح شکار تھے اور اس کثرت سے شراب پیتے تھے کہ ان کا کسی وقت کا کھانا بھی بغیر میخواری کے نہ ہوتا تھا۔منشی صاحب نے ایک لمبے عرصہ تک اپنے اس دوست کی عادت بد چھڑانے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہ ہوئی۔وکیل صاحب ان کو یہی کہتے کہ اتنے لمبے عرصہ سے یہ عادت میرے اندر راسخ ہو چکی ہے کہ اب اس کا ترک کرنا میری ہمت اور طاقت سے باہر ہے۔منشی صاحب اس خیال سے کہ قادیان میں حضرت اقدس علیہ السلام اور دوسرے بزرگوں کی دعا و برکت سے شاید وہ اس عادت بد کو چھوڑ سکیں ، ان کو قادیان لائے تھے۔ان دنوں باغ میں حضرت مولانا حکیم مولوی نورالدین صاحب قرآن کریم کا درس بھی فرماتے تھے چنانچہ جب حضرت مولوی صاحب بعد نما ز عصر درس دینے لگے تو منشی صاحب نے عرض کیا کہ میں اپنے ساتھ ایک غیر احمدی دوست کو بھی لایا ہوں۔ان کو مے نوشی کی پرانی عادت ہے آپ درس میں بادہ نوشی کی مضرتوں اور نقصانات پر بھی مفصل روشنی ڈالیں۔ہو سکتا ہے کہ یہ دوست آپ کے وعظ ونصیحت اور توجہ سے اس عادت کو ترک کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔اتفاق سے درس بھی آیت یسئلونک عن الخمر الخ والے رکوع سے شروع ہونا تھا۔چنانچہ حضرت حکیم الامت نے شراب کی مضرتوں اور نقصانات کو پوری شرح وبسط سے بیان فرمایا اور روحانی اخلاقی اقتصادی تمدنی اور طبی اعتبارات سے اس مسئلہ پر بہت عمدگی سے روشنی ڈالی۔حضرت کا درس بہت ہی پر تاثیر اور فائدہ بخش تھا۔جب درس ختم ہوا تو منشی صاحب نے اپنے وکیل دوست سے جو حلقہ درس میں بیٹھا ہوا تھا دریافت کیا کہ کیا آپ کو بھی اس درس سے کوئی فائدہ پہنچا ہے۔اس نے جواب دیا کہ شراب کی۔