حیات قدسی — Page 137
۱۳۷ گالیوں کا انجام ایک دفعہ موضع کولو تارڑ میں مولوی محمد حسین کو لوتارڑ وی سے میرا مناظرہ ہوا۔جس میں بھٹی قوم کے ایک معزز زمیندار میاں سردار خانصاحب رئیس بھا کا بھٹیاں تحصیل حافظ آبا دضلع گوجرانوالہ احمدی ہو گئے۔احمدیت کے بعد میاں صاحب موصوف اس علاقہ میں اخلاص وایمان کے لحاظ سے نمونہ کے احمدی تھے اور تبلیغ کے اتنے شیدائی تھے کہ شب و روز اپنے علاقہ میں تبلیغ کرتے رہتے تھے۔اور اکثر مجھے بھی اپنے گاؤں میں لے جاتے اور رات کے وقت اپنے مکان کی چھت پر مجھ سے تقریریں کروایا کرتے تھے۔ان کے گاؤں کے بھٹی لوگ چونکہ احمدیت کی وجہ سے ان کے بے حد معاند تھے اس لئے جب بھی میں ان کے گاؤں میں جا کے تقریر کرتا تو کوئی نہ کوئی شریر الطبع آدمی ان کے گھر کے پاس آکر مجھ کو اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دینا شروع کر دیتا۔جن کے جواب میں میں تو ان لوگوں کو نرمی سے ہی سمجھاتا رہتا مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تو ہین کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی غیرت ان لوگوں کو ہمیشہ ہلاک کرتی رہی۔چنانچہ سب سے پہلے چوہدری خدا یار نے جو احمدیت کا بے حد معاند تھا ، گالیاں دیں تو وہ چند دنوں میں مر گیا۔اس کے بعد چوہدری صلابتی خاں نے گالیاں دیں تو وہ چند دنوں میں مر گیا اس کے بعد ایک اور شدید دشمن نے گالیاں دیں تو وہ مر گیا۔پھر چوہدری مستی خاں نے گالیاں دیں تو وہ بہع پوتے کے مر گیا۔مگر پھر بھی افسوس ہے کہ ان لوگوں نے کوئی فائدہ نہ اٹھایا حالانکہ ان واقعات کا ان لوگوں میں اتنا چر چا تھا کہ اس کے بعد جب بھی میں اس گاؤں میں گیا ہوں مجھے دیکھ کر یہ لوگ یہی کہتے رہے ہیں کہ ہمارے آدمیوں کو مارنے والا آ گیا ہے۔میاں سردار خانصاحب نے ان لوگوں کو سمجھایا بھی کہ تم لوگوں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور مولوی صاحب کی توہین کا انجام بارہا دیکھا ہے اگر اب بھی تم احمدیت کو قبول نہ کرو تو پھر تمہاری کتنی بدقسمتی ہے۔مگر افسوس ہے کہ پھر بھی ان لوگوں کو حق قبول کرنے کی توفیق نہ ملی۔تاثیر دعا ایک دفعہ میری بیوی کے بڑے بھائی حکیم محمد اسمعیل صاحب کی ایک آدمی سے لڑائی ہو گئی جس