حیات قدسی — Page 136
موضع گوٹریالہ کا واقعہ عبرت سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں جبکہ پنجاب کے مختلف علاقوں میں طاعون کے حملے ہو رہے تھے میں تبلیغ کی غرض سے موضع گوٹریالہ تحصیل کھاریاں ضلع گجرات گیا اور وہاں ایک مخلص احمدی چوہدری سلطان عالم صاحب کے پاس چند دن رہا۔دورانِ قیام میں ہر رات میں ان کے مکان کی چھت پر چڑھ کر تقریریں کرتا رہا اور لوگوں کو احمدیت کے متعلق سمجھا تا رہا۔چونکہ ان تقریروں میں میں ان لوگوں کو طاعون وغیرہ کے عذابوں سے بھی ڈراتا رہا۔اس لئے ایک دن صبح کے وقت اس گاؤں کے کچھ افراد میرے پاس آئے اور کہنے لگے آپ نے اپنی تقریروں میں مرزا صاحب کے نہ ماننے والوں کو طاعون وغیرہ سے بہت ڈرایا ہے مگر آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ موضع گوٹریالہ بہت بلندی پر واقع ہے اور پھر اس کی فضا اور آب و ہوا اتنی عمدہ ہے کہ یہاں وبائی جراثیم پہنچ ہی نہیں سکتے۔میں نے کہا یہ تو بالکل درست ہے مگر آپ لوگ یہ بتا ئیں کہ مجھ سے پہلے کبھی کوئی احمدی مبلغ اس گاؤں میں آیا ہے جس نے آ کر آپ کو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تبلیغ کی ہو کہنے لگے نہیں آپ سے پہلے تو کوئی مبلغ اس گاؤں میں نہیں آیا۔میں نے کہا تو بس یہی وجہ ہے کہ آپ کا گاؤں ابھی تک محفوظ ہے۔اب میری تبلیغ اور آپ لوگوں کے انکار کے بعد بھی اگر یہ گاؤں خدا تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ رہا تو پھر میں سمجھوں گا کہ واقعی اس گاؤں کی عمدہ فضا خدا تعالیٰ کے ارشادِ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا 10 کے وعید کو روک سکتی ہے۔خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ میں تو ان لوگوں کو یہ بات کہہ کے چلا آیا مگر اس کے چند دن بعد ہی اس گاؤں میں چو ہے مرنے شروع ہو گئے اور پھر طاعون نے ایسا شدید حملہ کیا کہ اس گاؤں کے اکثر محلےموت نے خالی کر دئیے۔اور کئی لوگ بھاگ کر دوسرے دیہات میں چلے گئے۔بعد ازاں جب چوہدری سلطان عالم صاحب مجھ سے ملے تو انہوں نے بتایا کہ اس طاعون کے بعد جا بجا لوگوں میں یہی چرچا تھا کہ جو کچھ احمدی مولوی صاحب نے کہا تھا وہ بالکل صحیح نکلا ہے۔مگر افسوس ہے کہ پھر بھی ان لوگوں کی آنکھیں نہ کھلیں اور ہدایت سے محروم ہی رہے۔