حیات قدسی — Page 138
۱۳۸ میں حکیم صاحب نے اس آدمی کو مار مار کر لہو لہان کر دیا۔اس مضروب کے وارثوں نے جب اسے قریب الموت پایا تو وہ اسے چار پائی پر ڈال کر حافظ آباد کے تھانے میں لے گئے۔میری خوشدامن صاحبہ نے جب یہ واقعہ سنا تو مجھے حکیم صاحب موصوف کے لئے دعا کرنے کے لئے کہا میں نے جب ان کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی تسکین دی کہ میں نے دعا کے بعد ہی سب گھر والوں کو بتایا کہ نہ تو وہ مضروب مرے گا اور نہ ہی اس کے وارث اسے حافظ آباد کے تھانے میں لے جائیں گے اور نہ ہی مقدمہ دائر کریں گے۔چنانچہ اس دعا کے بعد واقعی وہ لوگ جو زخمی کو اٹھا کر حافظ آباد لے جارہے تھے جب تقریباً ڈیڑھ کوس کا فاصلہ طے کر کے حافظ آباد اور اپنے گاؤں کے درمیان ایک نہر کے پل پر پہنچے تو وہاں سے پھر واپس آگئے اور اس کے بعد وہ مضروب جو بظا ہر قریب الموت ہو چکا تھا وہ بھی چند دنوں میں اچھا ہو گیا اور حکیم صاحب کے خلاف مقدمہ بھی کسی نے دائر نہ کیا۔ایک روحانی بشارت جب میرا بڑا لڑکا عزیزم میاں اقبال احمد سلمہ ابھی بچہ ہی تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور میری اہلیہ اور عزیز موصوف سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں مقیم ہیں اور اس کا وقت مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ میری اہلیہ حضرت اقدس علیہ السلام کی لڑکی ہے اور عزیز موصوف حضور کا نواسہ ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ میں اور میرا یہ لڑکا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں دبا رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے مجھے دعا دیتے ہوئے فرمایا :۔- جانیوں کوئی لوڑ نہ رہے" یہ پنجابی زبان کا ایک فقرہ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ تیری سب حاجتیں پوری کرے۔اس خواب کے بعد واقعی آج تک خدا تعالیٰ میری ہر ایک ضرورت کو مِن حَيْثُ لا يحتسب پورا فرما رہا ہے اور میرے گھر والے اور میرے پاس رہنے والے اکثر لوگ اس روحانی بشارت کو اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں۔الحمد للہ علی ذالک