حیات قدسی

by Other Authors

Page 91 of 688

حیات قدسی — Page 91

۹۱ میں انہوں نے میری ایک گذشتہ تقریر کے علاوہ میرا ایک واقعہ بھی لکھا ہے جو مندرجہ ذیل ہے۔واقعہ ایک دفعہ میرے گاؤں موضع را جیکی کا ایک زمیندار میرے پاس آیا اور کہنے لگا میرا ایک لڑکا اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ گوجرانوالہ کے ضلع میں بیل خریدنے گیا ہوا تھا کہ راستہ میں ان کو چور ملے جو اپنے ساتھ چوری کے بیل لے جا رہے تھے۔ان لڑکوں نے جب ان کے پاس خوبصورت بیل دیکھے تو انہوں نے ان کے متعلق دریافت کیا اور ان کی قیمت وغیرہ پوچھی۔چوروں نے جب یہ دیکھا کہ خریدار تو رستے میں ہی مل گئے ہیں تو انہوں نے اپنی جان بچانے کے لئے وہ بیل ان لڑکوں کے پاس کم قیمت پر بیچ دیئے اور چلے گئے۔اتفاق کی بات ہے کہ ان بیلوں کے اصل مالک جو بیلوں کا کھوج لگاتے ہوئے پیچھے آرہے تھے انہوں نے بیل بھی ہمارے لڑکوں سے چھین لئے اور انہیں پولیس کے سپر دکر دیا۔اس واقعہ کو سنانے کے بعد اس زمیندار نے مجھ سے خواہش کی کہ آپ ریل جفر یا نجوم وغیرہ اعمال سے ان کی رہائی کے متعلق پتہ کر دیں کہ وہ کب اس مصیبت سے چھٹکارا پائیں گے۔میں بیعت سے قبل اگر چہ ان علوم سے اکثر استفادہ کیا کرتا تھا اور ان علوم میں اچھی دسترس بھی تھی یہاں تک کہ بعض دفعہ مایوس کن حالات میں بھی کھوئی ہوئی چیزوں کے متعلق میں نے ان ظلتی علوم سے جو نتائج اخذ کئے تھے وہ بسا اوقات صحیح نکلے تھے۔مگر احمدیت کے بعد میں نے ان تمام غیر یقینی اور طنی علوم کی بجائے دعاؤں کو ہی اپنا سرمایہ زندگی سمجھا اور انہی کو سب سے زیادہ موثر اور کارگر دیکھا ہے۔چنانچہ اس وقت بھی میں نے اس زمیندار کو کہا کہ اب رمل نجوم کو تو احمدیت کے باعث ترک کر چکا ہوں اب ان کی جگہ میں تمہارے لئے دعائے استخارہ ہی کروں گا اور جو بات خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے معلوم ہوئی تمہیں بتا دوں گا۔چنانچہ رات جب میں نے استخارہ کیا اور سو گیا تو خواب میں دیکھا کہ ایک شکاری نے جال لگایا ہے اور اس میں دو بٹیرے پھنس گئے ہیں مگر اچانک وہ بٹیرے اس جال میں سے اُڑ گئے ہیں۔صبح ہوتے ہی یہ خواب میں نے اس زمیندار کو بتایا اور کہا کہ تم کوئی فکر نہ کر و د ونو لڑکے انشاء اللہ بہت جلد رہا ہو جائیں گے۔تم فوراً گوجرانوالہ جاؤ اور کوشش کرو۔چنانچہ وہ زمیندار گوجرانوالہ گیا اور وہ دونولڑ کے بے قصور ثابت ہونے کی وجہ سے حوالات سے رہا کر دئیے گئے اور جو