حیات قدسی — Page 90
”اے مولا کریم اگر ہم سب لوگ اس قابل ہیں کہ اس دریا میں غرق کر دیئے جائیں اور ہمارا کوئی عمل ایسا نہیں جو ہماری نجات کا موجب ہو سکے تو پھر تو اپنے مقدس اور پیارے مسیح کی ان کتابوں کے طفیل جو انہوں نے لوگوں کی ہدایت اور نجات کے لئے شائع فرمائی ہیں اس آندھی کو چلنے سے روک دے اور ہمیں بخیریت کنارے پر لگا دے۔خدا جانتا ہے کہ میں نے ایک دو مرتبہ ہی ان دعائیہ کلمات کو دہرایا تھا کہ آندھی بالکل تھم گئی اور ہم سب لوگ بخیر و عافیت کنارے پر پہنچ گئے۔الحمد للہ علی ذالک علاج بالتبليغ مولوی امام الدین صاحب رضی اللہ عنہ ساکن گولیکی جو میرے استاد بھی تھے ان کا بڑا صا حبزادہ ایک دفعہ سخت بیمار ہو گیا تو مولوی صاحب مجھے کہنے لگے کہ آپ اس کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اسے صحت دے۔چونکہ مولوی صاحب موصوف کے استاد ہونے کے علاوہ ویسے بھی میرے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے۔اس لئے میں نے ان کے بیٹے قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کے لئے دعا شروع کر دی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاماً فرمایا۔اگر محمد ظہور الدین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصدیق و تائید میں کوئی تحریری خدمت بجالانے کی کوشش کرے تو اسے صحت ہو جائے گی“ چنانچہ اس الہام الہی کے بعد جب اکمل صاحب نے سلسلہ کی تحریری خدمت شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں آج تک لمبی عمر بھی عطا فرمائی اور مرض مایوسہ سے صحت بھی دے دی۔اور حضور اقدس علیہ السلام کے عہد مبارک کے آخر میں یا شاید اس کے بعد کے زمانہ میں جب انہوں نے ایک کتاب ” ظہور المہدی“ لکھی تو اس وقت مجھے اس کتاب کا الہامی نام ن احمدیہ بھی بتایا گیا جسے اکمل صاحب نے ظہور المہدی کے سرورق پر شائع بھی کروا دیا۔اس کتاب