حیات قدسی — Page 88
دریاؤں سے تشبیہہ دی ہے اس بات کو بھی سورہ فاتحہ سے پیش کیا کہ ان روحانی دریاؤں کے مقابل میں اللہ تعالیٰ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے لئے ایسے علاقہ کو انتخاب فرمایا ہے جو ظاہری پانچ دریاؤں کی وجہ سے پنجاب کہلاتا ہے اور اس میں حضور علیہ السلام کے ظاہر ہونے سے جہاں خدا تعالیٰ کے اسماء خمسہ کے روحانی دریا چلے ہیں وہاں ظاہری دریا بھی بطور نشان کے بہتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔میں نے جب یہ تقریر ختم کی تو حضرت مولانا نورالدین صاحب خلیفہ اول بہت خوش ہوئے اور فرمایا۔میں تو سمجھا تھا کہ نورالدین دنیا میں ایک ہی ہے مگر اب معلوم ہوا ہے کہ ہمارے مرزا نے تو کئی نورالدین پیدا کر دئیے ہیں“۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے میرے متعلق جب یہ ارشاد فرمایا تو اس وقت چوہدری کا عبداللہ خاں صاحب ساکن دا تا زید کا ضلع سیالکوٹ جو چوہدری سر ظفر اللہ خاں صاحب بالقابہ کے ماموں ہیں اور شیخ نبی بخش صاحب ساکن ڈیرہ بابا نانک بھی اس مجلس میں موجود تھے جیو میری اس تقریر کا سردار عبدالرحمن صاحب سابق مہر سنگھ نے اپنے رسالہ میں اور قاضی اکمل صاحب نے اپنی کتاب ظہور المہدی میں بھی ذکر کیا ہے مگر اس میں میرے نام کی تصریح نہیں کی۔فیضانِ رسالت ایک دفعہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مجلس سے فرمایا کہ:۔سورج کے ذریعہ تو چاند دو ہفتہ میں کامل ہوتا ہے لیکن ہماری صحبت میں اگر کوئی شخص صدق نیت اور کامل ارادت سے ایک ہفتہ گزارے تو وہ ایک ہفتہ میں ہی ہمارے روحانی فیض سے کامل ہو سکتا ہے۔ممکن ہے کہ حضور اقدس کے مذکورہ بالا کلمات کے الفاظ میں کچھ فرق ہو مگر مفہوم یہی تھا۔مندرجہ ذیل واقعہ کا ذکر جناب چوہدری عبداللہ خاں صاحب نے ایک جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان میں جب وہ مکرم والد صاحب کی ملاقات کے لئے گھر پر تشریف لائے بھی کیا تھا۔اس مجلس میں برادرم مولوی برکات احمد صاحب بھی موجود تھے۔خاکسار مرتب)