حیات قدسی — Page 89
۸۹ اسی مضمون کو حضور اقدس علیہ السلام نے اپنے ایک فارسی شعر میں یوں بیان فرمایا ہے کسے کہ سایہ بال ہماش سو دنداد بیائدش که دو روزے بظل ما باشد یعنی جس شخص کو بال ہما کا سایہ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکا اسے چاہیئے کہ وہ دودروز ہمارے سایہ کے نیچے آکر گذارے۔الوسيلة الفضيلة ایک دفعہ خاکسار سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت سے مشرف ہو کر اپنے گاؤں واپس آ رہا تھا کہ وزیر آباد کے قریب دریائے چناب کے ایک ساحلی گاؤں موضع خانکے پہنچا۔اس وقت چونکہ تھوڑا ہی دن باقی تھا اور مطلع بھی کچھ گرد آلود تھا اس لئے ملاحوں کے کشتی چلانے کا امکان تو نہیں تھا مگر ایک برات والوں کی منت و سماجت اور مخصوص خدمت نذرانہ کی وجہ سے آخر وہ کشتی چلانے پر رضا مند ہو گئے جس کی وجہ سے مجھے بھی اسی وقت دریا کو پار کرنے کا موقع مل گیا۔خدا کی حکمت ہے کہ جب ہماری کشتی عین دریا کے وسط میں پہنچی تو ادھر سورج قریب الغروب ہو گیا اور دوسری طرف آندھی چل پڑی۔جس کی وجہ سے ملاحوں نے کہا اب تو سوائے خدا کے اور کوئی چارہ نہیں ہم نے تو پہلے ہی آپ لوگوں کو کہا تھا کہ شام کے وقت ایسی خطرناک حالت میں جبکہ دریا ٹھاٹھیں مار رہا ہے اور آندھی کے آثار بھی دکھائی دے رہے ہیں، آپ لوگ ہمیں مجبور نہ کریں مگر اس وقت آپ لوگوں نے ہماری بات قبول نہ کی اب ہم کیا کریں۔جب کشتی میں سوار تمام لوگوں نے حالات کی مایوسی دیکھی تو اسی وقت تمام لوگوں نے بے اختیار چلانا شروع کر دیا اور پیر بخاری اور خواجہ خضر اور پیر جیلانی کو یاد کرنے لگ گئے۔مگر کچھ دیر تک جب پھر بھی صورت حال نہ بدلی تو آخر تمام اہل کشتی لا اله الا اللہ پکار اُٹھے اور کہنے لگے کہ اے خدا اب تیرے سوا کون ہے جو اس کشتی کو پار لگائے میں نے جب ان لوگوں کی زاری دیکھی تو اس وقت میں نے بھی دعا شروع کر دی اور چونکہ اس وقت میرے ساتھ حضور اقدس علیہ السلام کی بعض مقدس کتا بیں بھی تھیں اس لئے میں نے خدا تعالیٰ کے حضور ان کتابوں کا واسطہ دیتے ہوئے یہ دعا کی کہ