حیات قدسی — Page 87
۸۷ میدان میں فائز و کامران کرتا رہا ہے۔الحمد للہ علی ذالک ہمارے مرزا نے تو کئی نورالدین پیدا کر دیئے ہیں! تحدیث نعمت کے طور پر میں یہاں اس واقعہ کا اظہار کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ جب سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سیالکوٹ شہر تشریف لے گئے اور وہاں حضور اقدس نے لیکچر فرمایا تو اس وقت یہ عاجز بھی اس جلسہ میں شریک تھا۔اس جلسہ کی کارروائی سے ایک دن پہلے کی بات ہے کہ دو پہر کے کھانے کی تیاری میں ابھی گھنٹہ ڈیڑھ کا وقفہ تھا۔اور چونکہ اس وقت عام لوگ اد ہر ادھر گھوم رہے تھے اس لئے بعض منتظمین نے یہ تجویز کی کہ علماء میں سے کوئی تقریر شروع کر دیں تو لوگوں کا شور وشغب بھی دور ہو جائے گا اور احباب کو علمی فائدہ بھی پہنچے گا۔چنانچہ بعض احباب کے اصرار پر مجھے تقریر کرنے کے لئے کہا گیا۔اور میں نے کھڑے ہو کر اس مجمع میں سورہ الحمد کے مختلف مطالب بیان کرتے ہوئے یہ بات بھی بیان کی کہ زمانہ کے نبی کے ظہور کے وقت ہر ایک چیز ہی اس کو کی صداقت پر شاہد ہوتی ہے۔چنانچہ موجودہ زمانہ میں خدا تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان میں سے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مہدی کے مقام پر فائز کر کے سارے جہان کے لئے مبعوث کیا ہے اور پھر تمام جہان میں سے ملک ہند کو چنا ہے اور پھر ملک ہند میں سے پنجاب کو چنا ہے اور پھر پنجاب میں سے علاقہ ماجھی کو چنا ہے اور ان تمام ناموں میں اللہ تعالیٰ نے بحساب ابجد ایسی مناسبت رکھی ہے کہ چشم بصیرت رکھنے والے انسان کے لئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی ایک اتفاقی دلیل بن جاتی ہے۔چنانچہ ابجد کے لحاظ سے مہدی کے عدد بھی ۵۹ ہیں اور جہان کے عدد بھی ۵۹ ہیں اور ہند کے عدد بھی ۵۹ ہیں اور پنجاب کے عدد بھی ۵۹ ہیں اور ماجھی کے عدد بھی ۵۹ ہیں۔علاوہ ازیں غلام احمد قادیانی کے اعداد جو پورے ۱۳۰۰ یعنی ایک ہزار اور تین سو بنتے ہیں ان سے بھی حضور کے دعوی بعثت اور مہدی کے ظہور کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جو سنہ ہجری کی تاریخ سے متعلق ہے۔پس اس حساب سے ظاہر ہے کہ زمانہ جس مہدی کے انتظار میں چشم براہ ہے وہ اپنے نام اور مقام اور جائے ظہور کے لحاظ سے عددی مناسبت بھی رکھتا ہے۔اس بات کو بیان کرنے کے بعد میں نے سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتاب کرامات الصادقین کی تفسیر کے مطابق جہاں حضور علیہ السلام نے سورہ فاتحہ کے اسماء خمسہ کو پانچ