حیات قدسی — Page 55
۵۵ یہ سمجھایا کرتا تھا کہ عشق مجازی در اصل نفسانی جوش اور جنسی رجحان کا نام ہے جو پُر خوری اور فارغ البالی کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور اصل محبت اور عشق وہی ہے جو انسان وَالَّذِينَ آمَنُوا اشَدُّ حُبًّا لِله 14 کے مطابق اللہ تعالیٰ سے استوار کرے۔اسی طرح سمجھاتے ہوئے میں نے ایک دن ولی محمد سے کہا کہ تمہارا عشق تو ایسا ہے کہ اگر تمہیں ایک مرتبہ بخار چڑھے اور سر میں درد شروع ہو جائے تو یہ عشق اسی وقت کا فور ہو جائے گا۔ولی محمد کہنے لگا ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔بھلا وہ عشق جو میری ہڈیوں اور جسم کے ذرے ذرے میں سما چکا ہے وہ دردسر اور بخار کو کیا سمجھتا ہے۔آپ بے شک اس کا تجربہ کر کے دیکھ لیں۔میں نے کہا تجربہ کرنا بھی کوئی ناممکن نہیں۔خدا چاہے تو تمہارے اندر سے ہی اس کا سامان پیدا کر دے۔خدا کی حکمت ہے کہ ولی محمد میرے پاس سے گیا تو گھر پہنچتے ہی اسے شدید بخار اور سر درد شروع ہو گیا۔جب اس کی علالت پر تین دن گذر چکے اور وہ اپنے گھر سے باہر نہیں نکلا تو میں نے خیال کیا کہ شاید وہ گاؤں سے باہر کسی اور گاؤں میں کام کے لئے چلا گیا ہے۔اتنے میں اس کی والدہ اور ہمشیرہ یکے بعد دیگرے میرے پاس آئیں اور ولی محمد کے متعلق بتایا کہ اسے تین روز سے شدید بخار اور سر درد ہے اور وہ آپ کو یاد کر رہا ہے۔میں نے اسے کہلا بھیجا کہ مجھے وہاں آنے کی چنداں ضرورت نہیں تم اپنا مدعا کہلا بھیجو۔اس کی والدہ اور ہمشیرہ نے جب میرا یہ پیغام دیا تو کہنے لگا اگر وہ اب نہیں آتے تو کیا میرے جنازہ پر آئیں گے۔پھر اپنے والد اور بھائیوں کے ذریعے کہلا بھیجا؟ کہ مجھے مرنے سے پہلے ایک مرتبہ اپنا منہ ضرور دکھا جاؤ۔چنانچہ میں ان کے اصرار پر ان کے گھر پہنچا اور ولی محمد سے دریافت کیا کہ کہیئے اب حالت کیسی ہے۔کہنے لگا اب تو آپ یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس بیماری سے نجات دے دے۔میں نے کہا تو کیا اب یہ دعا نہ کروں کہ تمہارے جذبہ محبت کی تسکین ہو جائے۔کہنے لگا کہ جان سکھ جہان سکھ ، اس وقت تو آپ میری صحت کے لئے دعا فرما ئیں مجھے اور کسی چیز کی ضرورت نہیں۔میں نے کہا دعا تو کروں گا مگر اس شرط پر کہ تم آئندہ میرے سامنے کبھی اپنے معاشقہ کا ذکر نہ کرنا۔ولی محمد کہنے لگا آپ میرا گناہ معاف فرما ئیں آئندہ میری تو به ! میری تو بہ ! چنانچہ اسی وقت میں نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور سب حاضرین کو بھی دعا کی تحریک کی۔مجھے دعا کرتے ہوئے ابھی کوئی آدھ گھنٹہ ہوا تھا کہ ولی محمد خدا کے فضل سے روبصحت ہونا شروع ہو گیا اور جلدی بالکل تندرست ہو گیا۔اس کے بعد چوہدری ولی محمد جب مجھ سے ملتے تو کہتے آپ نے مجھے مجبور کر کے توبہ کرائی ہے