حیات قدسی

by Other Authors

Page 54 of 688

حیات قدسی — Page 54

۵۴ ایک دفعہ مجھے خط لکھا کہ میرے دولڑ کے باوجود اچھی تعلیم رکھنے کے ابھی تک بریار ہیں آپ ان کے لئے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی روزگار کی صورت پیدا کر دے۔چونکہ میں اس خاتون کے خسر کا احسان مند تھا۔اس لئے میں نے اس کے لڑکوں کے لئے متواتر کئی روز تک دعا کی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رؤیا کے ذریعہ مجھے بتایا گیا کہ اگر اس کے لڑکے تین لاکھ مرتبہ درود شریف کا ورد کریں گے تو ان کی تین سو روپیہ تنخواہ لگ جائے گی اور اگر ڈیڑھ لاکھ مرتبہ درود شریف کا ورد کریں گے تو ڈیڑھ سو روپیہ ان کی تنخواہ لگ جائے گی۔چنانچہ میں نے اسی دن اس رؤیا کی اطلاع کے اس کو دے دی تھی۔معلوم نہیں کہ اس کے لڑکوں نے یہ عمل کیا تھا یا نہیں۔ایک لطیفہ موضع گولیکی کی رہائش کے دوران میں وہاں کے دوستوں میں چوہدری محمد الدین ، چوہدری کے شمس الدین ، چوہدری قاسم الدین نمبر دار، چوہدری امام بخش ، چوہدری غلام محمد ولد بہرام ، چوہدری ولی محمد ، میاں قطب الدین ، میاں امام الدین بڑھتی ، میاں خوشی محمد ، پیر شمس الدین، پیر غلام غوث ) وغیرھم اکثر احباب مجھ سے محبت رکھتے تھے اور میرے پاس ملاقات کے لئے آتے رہتے تھے۔الحمد للہ کہ بعد میں ان دوستوں میں سے اکثر دوست میری اور مولوی امام الدین صاحب کی تبلیغ سے احمدی ہو گئے تھے۔ان دنوں چونکہ میری عمر بھی کوئی سترہ اٹھارہ سال کی تھی اس لئے ان دوستوں میں کئی نوجوان دوست میرے تعلق کی وجہ سے رات کو عموماً میرے پاس ہی مسجد کے ایک حجرہ میں سو جایا کرتے تھے۔اور چوہدری ولی محمد اور چوہدری قاسم الدین نمبر دار تو اکثر رات گئے تک میرے پاس ہی بیٹھے رہتے تھے۔چوہدری ولی محمد چونکہ بالکل عنفوان شباب میں تھا اس لئے وہ کئی دفعہ مجھے اپنے معاشقہ کی داستان سنا سنا کر اپنی محرومی کا ذکر کرتا رہتا تھا اور بار بار مجھ سے دعا کے لئے بھی درخواست کرتا تھا۔میں اس کے جواب میں اُسے اکثر مولانا روم کا یہ شعر سنا کر کہے ایس نه عشق است آنکه با مردم بود این فساد خوردن گندم بود