حیات قدسی

by Other Authors

Page 560 of 688

حیات قدسی — Page 560

۵۶۰ مذہب کو قبول کر کے خدا کی رضا حاصل کریں۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ سوامی یوگندر پال سے مناظرہ ایک دفعہ ریاست پٹیالہ کے شہر سامانہ میں سوامی یوگندر پال مشہور آریہ مناظر سے میرا مباحثہ ہوا۔علاوہ اور باتوں کے سوامی نے کہا کہ آج کل یورپ اور امریکہ والے آسمان میں بسنے والی مخلوق سے میل ملاقات کی کوشش کر رہے ہیں اور اس غرض کے لئے مختلف تجاویز کی جارہی ہیں۔جب زمین والے آسمان کی آبادیوں میں جا پہنچے تو پھر وہاں قرآن کی تعلیم پر کس طرح عمل ہو گا۔میں نے جواباً کہا کہ قرآن کریم وید کی طرح ملکی اور قومی بندھن میں جکڑا ہوا نہیں کہ آسمانی اور زمینی مخلوق کے ملنے پر اس کی تعلیم کے اجراء میں مشکل پیش آئے۔قرآن کریم تو خود اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ وہ رب العلمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے یعنی اس کی تعلیم اس خدا کی طرف سے ہے جو زمینی مخلوق کو بھی پیدا کرنے والا ہے اور اس کی پرورش کرنے والا ہے اور آسمانی مخلوق کی بھی ر بو بیت کرنے والا ہے اور یورپ و امریکہ والے تو آج آسمانی مخلوق سے رابطہ کرنے کی کوشش کرے نے لگے ہیں۔قرآن کریم تیرہ سو سال سے بھی پہلے پیشگوئی فرما چکا ہے کہ ومِن اينه خلق السمواتِ والارضِ وَمَا بَتَ فِيهِمَا مِن دَابَّةٍ وَهُوَ عَلى جمعهم إذا يشاء قديرًا 64 اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اپنے نشانات قدرت میں سے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور زمین میں اور آسمان کی بلندیوں یعنی نجوم اور سیاروں وغیرہ میں دابہ اور دواب کو پھیلا یابت کا لفظ کثرت سے پھیلانے کے معنوں میں آتا ہے جیسے سورہ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيراً وَّ نِسَاء 5 - اس آیت میں جو وهو على جمعهم كے الفاظ فرمائے گئے ہیں اس میں جمع مذکر کی ضمیر استعمال کی گئی ہے جس سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ جس طرح زمین میں من دابہ سے ذوی العقول اور غیر ذوی العقول دو اب مراد ہیں اور اس میں دوسرے جانوروں کے علاوہ انسان بھی پائے جاتے ہیں اسی طرح آسمان کی بلندیوں میں جو مخلوق پائی جاتی ہے اس میں علاوہ غیر ذوی العقول دواب کے ذوی العقول دو اب بھی پائے جاتے ہیں۔یعنی انسان بھی موجود ہیں۔اور وهو على جمعهم اذا يشاء قدیر کے الفاظ میں یہ پیشگوئی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی