حیات قدسی — Page 559
۵۵۹ اسي سلوک کرنا اسلامی تعلیم نے سکھایا ہے چنانچہ جہاں يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيمًا وَّ 62 کی رو سے پُر شفقت سلوک کے ساتھ مسکینوں قتیموں اور اسیروں کو جو مالی تکلیف کی حالت میں بھوک سے کھانے کے محتاج ہوتے ہیں انہیں محض اس خیال محبت سے کہ یہ بے بس اور ا محتاج لوگ ہمارے اللہ کے بندے ہیں بحالتِ توفیق و استطاعت و مقدرت انہیں کھانا کھلاتے ہیں علاوہ انسانوں کے حسب ارشاد فِى اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ بے زبان اور معذور جانوروں کو جو زبانِ قال سے اپنی حالتِ احتیاج کا اظہار نہیں کر سکتے۔ایک مسلم کے لئے اسلامی ہدایت اور تعلیم کے رو سے انہیں بھی اپنے مال میں حقدار سمجھ کر ان کا حق ادا کرنا ضروری ہے۔چنا نچہ صحیح بخاری میں اسی قسم کی تعلیم پیش کرنے کی غرض سے بطور نمونہ ایک عورت کی حکایت بیان فرمائی کہ اس نے ایک پیاسے کتے کو جو شدت پیاس کی وجہ سے مضطرب الحال ہو رہا تھا ، کنویں سے پانی نکال کر اسے پلایا اور اس کا یہ عمل اس کے خالق اور محسن خدا نے اتنا پسند کیا کہ اس عورت کی نجات اور فلاح کا باعث یہی عمل بنا دیا۔اسی طرح تشدد اور سخت دلی سے تکلیف دہ سلوک علاوہ انسانوں کے اسلام کی تعلیم میں جانوروں اور جانداروں سے کرنا بھی منع کیا گیا ہے۔چنانچہ صحیح بخاری میں محض اسی طرح کے تشد داور سختی سے روکنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور مثال ایک اور واقعہ بیان فرمایا کہ ایک عورت نے بلی کو بصورت جبس بند اور محبوس رکھنے سے بلا کھلانے اور پلانے کے اس قدر تشدد اور سختی سے کام لیا کہ آخر بلی اسی تکلیف سے تڑپ تڑپ کر مرگئی اور خدا نے اپنی مخلوق ملی پر اس طرح کے تشد دکوسخت نا پسند کرتے ہوئے اس عورت پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مناسب سزا دینے کے لئے دوزخ میں ڈالنے کا حکم فرمایا۔اب یہ تعلیم اور ایسی کامل اور وسیع تعلیم جو نبیوں اور رسولوں کی طرف سے دنیا میں پیش کی جاتی ہے ظالم ڈکٹیٹر اور بدکیش اور ستمگر لیڈر جو اپنی خود غرضی اور خود پرستی اور خودروی کے مطمع النظر کے سوا اور کچھ جانتے ہی نہیں اور حب مدح اور حب جاہ کے بغیر ان کا کوئی نصب العین ہی نہیں کیا جانیں اور کیا سمجھیں کہ الہامی تعلیم کی بناء پر پیش کردہ ملت بیضا اور مذہب حق کیا ہوتا ہے۔بالآخر دعا ہے کہ اللہ تعالی موجودہ زمانہ کے لوگوں کی آنکھیں کھول دے تا وہ مذہب کی ضرورت کو سمجھیں۔پھر صحیح