حیات قدسی

by Other Authors

Page 498 of 688

حیات قدسی — Page 498

۴۹۸ وہ اگر چہ غرق ہونے سے بچ نہ سکا اور مع اپنے لشکر کے غرق ہو گیا لیکن اس کے جسم کو نشان عبرت کے طور پر اب تک محفوظ رکھا گیا۔تا کہ یہ ظاہر ہو کہ جس خدا کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پیش کیا تھا۔وہی سچا اور اکیلا خدا ہے۔اور اس کے ساتھ کوئی دوسرا اس کی خدائی میں شریک نہیں۔اسی طرح حضرت سرور کائنات، فخر موجودات محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین مکہ اور عرب کے لئے تو حید کا پیغام لائے۔اور معجزات اور آسمانی نشانوں سے آخر عرب کی اصنام پرستی ختم ہوئی۔اور بت پرست تا ئب ہو کر خدا پرست بن گئے۔اور مثیل موسیٰ کے ذریعہ سے توحید کا صحیح عقیدہ پہلے عرب میں اور پھر وہاں سے اکناف عالم میں قائم اور شائع ہوا۔۴۔ان امور پیش کردہ کے علاوہ خاکسار نے آیت فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَ كُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا سے تو حید کا وہ استدلال پیش کیا جس کا بیان بلدہ سہسرام کے واقعہ کے ضمن میں گذر چکا ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے سامعین پر اس قدر اثر ہوا کہ جب صاحب صدر نے میرے وقت کے اختتام کا اعلان کیا۔تو کئی علماء حاضرین میں سے کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے کہ ابھی اس کا تقریر کو بند نہ کیا جائے۔جب صدر صاحب نے طے شدہ پروگرام کے مطابق مزید وقت دینے سے معذوری ظاہر کی تو علامہ سجاد حسین صاحب مجتہد لکھنو نے کھڑے ہو کر کہا کہ اگر ان کا وقت ختم ہو چکا ہے تو میں ان کو اپنا وقت دیتا ہوں۔اس تقریر کو بند نہ فرمائیے گا لیکن صدر صاحب نے کہا کہ اس وقت شائع شدہ پروگرام پر عمل کرنا ہے۔اگر ممکن ہو سکا تو یہ تقریر کسی دوسرے وقت میں بھی سنی جاسکتی ہے۔اس پر لوگ خاموش ہو گئے۔جناب مولوی عبدالحق صاحب مفسر تفسیر حقانی نے کہا کہ جو تفسیر آیت فاذكروا الله كذكركم۔۔۔۔۔الخ آج احمدی مولوی صاحب نے کی ہے وہ اس سے پہلے میں نے پڑھی یا سنی نہیں۔کئی علماء نے میرا ایڈریس نوٹ کیا۔اور خواہش ظاہر کی کہ اگر ہم آپ کو اپنے ہاں جلسوں پر بلائیں تو آپ ضرور آئیں۔حضرت سید صادق حسین صاحب جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے اور سادات کے مشہور خاندان کے علاوہ اہل علم اور اطباء کی اولاد میں سے ایک معزز بزرگ تھے۔اور سلسلہ کے ساتھ نہایت اخلاص رکھتے تھے۔اور انہی کے گھر ہمارا وفد ٹھہرا ہوا تھا۔بہت ہی محظوظ ہوئے اور بار بار مسرت کا اظہار فرماتے اور احمدیت کی روشنی میں بیان کردہ مسائل کی فوقیت پر