حیات قدسی — Page 497
۴۹۷ نقص اور فساد پیدا ہوا خدا تعالیٰ کے انبیاء بطور مصلح کے مبعوث ہوتے رہے۔دہریت اور شرک کا قلع قمع کرتے رہے۔اور لوگوں کو صراط مستقیم کی طرف رہنمائی کرتے رہے۔۲۔دہریت کا عقیدہ تکبر، غرور، خود روی اور خود پسندی سے پیدا ہوتا ہے۔اور شرک کا عقیدہ مخلوق کی بے جا محبت ، عدم معرفت اور جہالت کی تاریکی سے پیدا ہوتا ہے۔قرآن کریم میں دہریت کا نمونہ نمرود اور فرعونِ مصر کے ذکر سے پیش کیا گیا ہے۔اور شرک کا نمونہ قوم نوح ، قوم عاد اور مشرکان مکہ وعرب کے ذکر سے پیش کیا گیا ہے۔۳۔تو حید کی تعلیم کو خدا تعالیٰ کے نبی علاوہ علمی دلائل اور عقلی استدلالات کے بشیر اور نذیر کی حیثیت میں تبشیری اور انذاری نشانات کے ذریعہ بھی لوگوں کو دیتے اور مومنوں کے ایمانوں کو زندہ خدا کی ہستی کے متعلق مضبوط کرتے۔اور منکروں اور کافروں پر انذاری نشانات سے اتمام حجت کرتے ہیں۔اس طرح مومن اور کافر میں فرق قائم ہو جاتا ہے۔اور مومن کامل تو حید پر قائم ہو جاتے ہیں۔اور اس طرح تو حید الہی دنیا میں پھیلتی ہے۔قوم نوح ، قوم ہود، قوم صالح ، قوم لوط اور فرعونیوں کو اتمام حجت کے بعد ہی ہلاک کیا گیا۔وہ فرعون جو أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى 18 اور لَئِنِ اتَّخَذْتَ إِلَهَا غَيْرِى لَاجْعَلَنَّاكَ مِنَ الْمَسْجُونِينَ 19 کے بلند بانگ دعاوی کرتا تھا۔اور تکبر اور غرور سے سرشار تھا۔اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے معجزات و آیات بینات کے ذریعہ سے اتمام حجت کی۔اور جب اس نے پھر بھی سرکشی دکھائی۔تو طوفانِ آب اس پر مسلط کیا گیا۔جس کی شدت اور تباہی کو سامنے دیکھتے ہوئے جب وہ غرق ہونے لگا۔تو اس وقت خدا تعالیٰ کی توحید جو اس سے پہلے اس کو سمجھ نہ آتی تھی۔سمجھ آنے لگی۔اور اس کی فطرت کی گہرائی سے یہ آواز نکلی کہ آمَنتُ إِنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إسرائيل 20 یعنی میں ایمان لاتا ہوں کہ اس خدا کے سوا جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور کوئی معبود نہیں۔گویا اس وقت جب موت اس کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھی اس نے اقرار کیا کہ نہ میں خدا ہوں۔نہ میرے سوا مخلوق سے کوئی اور خدا ہے۔ہاں سچا خدا وہ قدوس ہستی ہے جس پر بنی اسرائیل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ ایمان لائے ہیں اور میں اس پر ایمان لاتا ہوں تا کہ اس موت اور عذاب سے نجات پاسکوں۔