حیات قدسی — Page 499
۴۹۹ شاداں و فرحاں ہوتے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ مست شیطان سے حفاظت ایک دفعہ یہ حقیر خادم بارگاہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں حاضر تھا اور حضور کے اصحاب کبار حضرت مولانا نورالدین صاحب و حضرت مولوی عبد الکریم صاحب و جناب مولوی محمد احسن صاحب وغیر ہم بھی موجود تھے۔اور احادیث نبوی کے متعلق گفتگو ہو رہی تھی۔اس دوران کو میں بخاری کی کتاب التفسیر کی اس حدیث کا ذکر آیا کہ جو مَامِنُ مَوْلُودٍ يُولَدُ إِلَّا وَالشَّيْطَانُ يُمَسُّهُ حِينَ يُولَدُ۔۔۔کے الفاظ میں مذکور ہے۔یعنی جو کوئی نومولود پیدا ہوتا ہے اس کو بوقت پیدائش 21 شیطان مست کرتا ہے۔جس سے وہ چیخ مارتا ہے۔سوائے مریم اور اس کے بیٹے کے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے اس کے متعلق فرمایا کہ اس حدیث کے الفاظ کو اگر حقیقت پر محمول کیا جائے۔اور صرف حضرت مریم اور ابن مریم علیہما السلام کومس شیطان سے پاک سمجھا جائے تو اس سے بہت بڑی قباحت لازم آتی ہے۔اور تمام انبیاء معصومین خصوصاً سید المعصومین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک لازم آتی ہے۔اور ان کی مقدس و مطہر ذات پر سخت حملہ ہوتا ہے۔پس ہم اس حدیث کو ظاہری معنوں میں ہرگز قبول نہیں کر سکتے۔حضوراقدس نے اس حدیث کی صحیح تاویل اور تشریح اس طرح فرمائی کہ اس حدیث میں مریم اور ابن مریم علیہما السلام کے الفاظ استعارة وصفی معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔اور ہر وہ مقدس ہستی جو مریم اور ابن مریم کی صفات رکھتی ہے اور ان وجودوں کی مثیل ہوتی ہے۔وہ مسنِ شیطان سے پاک اور محفوظ ہے۔اور قرآن کریم کی نصوص صریحہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔چنانچہ سورہ بنی اسرائیل کی آیت إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَن 2 میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں انبیاء ورسل اور صدیقین، شہداء اور صالحین کو شیطان کے تسلط سے محفوظ قرار دیا ہے۔اور دوسری جگہ جہاں حکایہ شیطان کے قول کا ذکر فرمایا گیا ہے۔وہاں بھی اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِين 2 کا استثنا ہے۔یعنی مخلص بندے شیطان کے تصرف و تسلط سے محفوظ رہیں گے۔اس تعلق میں حضرت اقدس علیہ السلام نے بعض مفسرین کے قول کو بھی بطور استشہاد کے فرمایا۔