حیات قدسی — Page 463
۴۶۳ در رو عالم مرا عزیز توئی و آنچه می خواهم از تو نیز توئی 2 انسان اپنی مجر دعقل سے کام لے کر اور اعلیٰ سے اعلیٰ علوم کی ڈگریاں حاصل کر کے سوائے کو جذبات نفس سے کھیلنے اور فطری شرافت سے دور ہونے اور تباہ کن ایٹمی ایجادات کا جال پھیلانے کے اور کچھ ترقی نہیں کر سکا۔لیکن احمدی جماعت کے افراد موجودہ زمانہ کے مرسل و ہادی پر ایمان لا کر اور اس کی تعلیم اور نمونہ پر چل کر اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کر چکے ہیں۔اور تہذیب نفس، علم صحیح اور اخلاق فاضلہ کی وجہ سے دنیا میں شہرت رکھتے ہیں۔ان کے مقابل پر خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کو جو بدظنی میں مبتلا تھے یا حکومت اور قومیت کی بڑائی یا خاندانی وجاہت یا ذاتی تفوق کے غرور و تکبر میں مبتلا تھے ، صداقت کو قبول کرنے سے محروم کر دیا۔الغرض جب تک انسان کو یہ معرفت حاصل نہ ہو کہ وہ اپنی ذات کے علاوہ آفاقی نظام کو بھی جو لا محدود وسعت تک پھیلا ہوا ہے، آئینہ خود بینی بنانے کی بجائے آئینہ خدا بینی قرار دے اور اس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی صفات اور افعال کی پُر عظمت شان کو مشاہدہ کرے۔اس کی نفسانیت کا حجاب دور نہیں ہوسکتا۔اس مقصد کے حصول کے لئے میں نے نماز روزہ کے مجاہدات اور خلوت کی دعاؤں سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔خصوصاً سورۃ فاتحہ کے الفاظ میں بار بار غور کرنے سے میری روح اور قلب اور حواس کو بہت ہی جلاء حاصل ہوا ہے۔علاوہ مسنون دعاؤں کے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے مجھے بہت سی دعا ئیں روح القدس کی رہنمائی سے سکھائی گئیں۔جن میں سے بعض کا ذکر پہلی جلدوں میں کیا جا چکا ہے۔بعض دعاؤں کا مفہوم نمونہ کے طور پر ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔یہ دعائیں سورہ فاتحہ کے الفاظ سے مقتبس ہیں :۔دعائیں (1) اے میرے رحمن ورحیم اللہ ! جس طرح تو نے اپنی کامل حمد اور ر بوبیت سے اپنی رحمانی اور رحیمی