حیات قدسی — Page 462
۴۶۲ جب میری عارفانہ نگاہ تیز ہوئی تو میرے اندر یہ احساس پیدا ہوا کہ میں اپنی ہستی کے مسئلہ کو سمجھوں اور یہ دیکھوں کہ میرے وجود کی اصل حقیقت کیا ہے۔تب میں نے اپنے جسم کے ذرہ ذرہ اور روح کی ہر قوت اور ہر جس کو گہری نظر سے دیکھا اور مجھے معلوم ہوا کہ دنیا کے بہت سے عیوب اور گناہ تکبر اور نخوت سے پیدا شدہ ہیں۔اور موجودات عالم کی بہت سی نیکیاں کبر و غرور کے حجابات کے پیچھے چھپی ہوئی ہیں۔اور جب تک خدا تعالیٰ کو جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا اور ربوبیت کرنے والا ہے۔کامل معرفت سے نہ پہچانا جائے اور دنیا کا وجود اللہ تعالیٰ کے آئینہ میں نہ دیکھا جائے۔انسان اس تکبر اور نخوت کی نجاست سے نہیں بچ سکتا۔اور خدا تعالیٰ کی معرفت کا ملہ اس کے مقدس نبیوں کی تعلیم کے ذریعہ سے جو وحی الہی سے حاصل ہوتی ہے اور زندہ اور تازہ نشانوں سے جو انبیاء کے ذریعہ دنیا پر ظاہر ہوتے ہیں ، حاصل ہوتی ہے۔نیز انبیاء کے اسوہ حسنہ کو قریب سے دیکھنے سے بھی انسان کی بہت کو سی آلودگیاں اور گنا ہ صاف ہو جاتے ہیں۔قانون طبعی عقلی قیاسات اور خشک منطق ، معرفت کا ملہ کو پانے کے لئے قطعا نا کافی ہے۔بلکہ اس کے ذریعہ سے اکثر بجائے ہدایت کے گمراہی حاصل ہو جاتی ہے۔اور جس طرح سورج کی روشنی کے بغیر آنکھ کی بینائی کام نہیں دیتی اور کرہ ہوائی کے بغیر کان کی شنوائی نا کافی ہے۔اسی طرح انسانی عقل و دانش آسمانی وحی کے بغیر بیچ اور بے کار ہے۔جس طرح دریا کے قریب کی زمین نرم ہوتی ہے اور اس کو آسانی سے کھود کر پانی نکالا جا سکتا ہے، اسی طرح نبیوں کے تعلق اور قربت سے ان کی تعلیم اور اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے انسان بآسانی راہ سلوک طے کر لیتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی معرفت، اس کی محبت اور قرب کو حاصل کر لیتا ہے۔انبیاء ورسل کے مبعوث کرنے کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ہی جاری فرمایا ہے۔اور ا اپنے طالبوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لئے خود ہی سامان مہیا فرمائے ہیں۔اس تعلق میں مجھے مولانا حالی کا یہ شعر جو بظاہر حد ادب سے کسی قدر گرا ہوا ہے ، حقیقت کو ظاہر کرنے والا معلوم ہوتا ہے یعنی تدائے آں بہت شوخم کہ خود وقت وصال مراطریق مس و بوسه و کنار آموخت حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے سب سے زیادہ اسی کی مدد و نصرت درکار ہے۔ور نہ انسان مجرد عقل اور اپنی جد و جہد سے اس وراء الوریٰ ہستی کی معرفت اور قرب و وصال نہیں پاسکتا۔اس راہ میں وہی کامیاب ہو سکتا ہے۔جس کے دل کی گہرائیوں سے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ نکلتے رہیں۔