حیات قدسی — Page 464
۴۶۴ اور مالک یوم الدین کی شان سے اور اپنی ہاد یا نہ صفات اور منعمانہ افاضات سے اپنے تمام منعم بندوں کو شیطان کی ہر قسم کی شیطنیت اور رحمیت سے اپنی کامل پناہ اور حفاظت میں رکھا ہے۔اور ان کو مغضوبیت اور ضالیت سے بچایا ہے، اسی طرح تو اپنے اس عبد حقیر کو بھی کامل طور پر اپنی پناہ میں لے کر ابد تک محفوظ رکھ۔تاکہ تیرا یہ بندہ عقائد صحیحہ، اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی رو سے شیطان کی شیطنیت اور رجمیت کے بداثرات سے بچ سکے اور مغضوبیت اور ضالیت میں مبتلا نہ ہو جائے۔جس طرح تو نے اپنے فضل سے مجیب الدعوات ہونے کے اعتبار سے اپنے منعم بندوں کو مستفیض فرمایا ہے، اپنے اس عہد حقیر کو بھی مستفیض فرما۔آمین (۲) اے میرے ازلی ابدی الوہیت کی شان والے اللہ ! تیری ہر وہ حمد جو تو نے اپنی رحمانیت کی بے انتہا تجلیات سے اور رَبُّ الْعَالَمِین کے فیضان اعم اور الرحمن کے فیضان عالم سے اس دنیا کی تعمیر میں نمایاں فرمائی ہے۔اور الرَّحِیم کے فیض خاص اور مَالِكِ يَوْمِ الدِّین کے فیض اخص سے عالم آخرت کی اعجب العجائب تجلیات سے جلوہ نمائی کی ہے۔اپنی اس بے نظیر حمد سے جو ہر طرح کے حسن واحسان کا مبداء اور منبع ہے۔اس عبد حقیر کو بھی بے نظیر حسن و احسان کے جلووں سے متاثر ہونے والے کامل حواس عطا فرما۔جس طرح تو نے اپنے عباد منعمین کو کسی دور خلق میں عطا فرمائے ہیں۔آمین (۳) اے ازلی ابدی حمد اور شانِ الوہیت والے میرے بے نظیر اللہ ! جس نے میری ہستی کے قیام و بقا کے لئے ہر آن مخلوقات کے ذرہ ذرہ کو تعاونی طور پر میری تعمیر اور تکمیل کے لئے لگا رکھا ہے۔اور یہ سب کچھ بغیر میری کسی تحریک یا درخواست کے اپنے فضل و احسان سے میری ربوبیت کے لئے فرمایا ہے۔اور اپنے فیوض کے بحر بے پایاں کو ہرلمحہ تموج نما کیا ہے۔جس طرح تو نے اپنے فیوض سے تمام منعم بندوں کے عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ سے ان کی روحانیت کی عمارت کو کامل بنایا