حیات قدسی — Page 322
۳۲۲ عمل پیرا تھے کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی بعد میں۔پس جب وارکعوا کے الفاظ میں پہلے لوگوں کو حکم ہے کہ وہ بعد کو آنے والے مومنوں کے ساتھ مل کر رکوع کریں تو اسی اعتبار سے اب بھی دوسرے اسلامی فرقوں کو جو پہلے سے پائے جاتے ہیں۔حکم ہے کہ وہ احمدی جماعت کے ساتھ مل کر جو منہاج نبوت پر قائم ہے۔نماز ادا کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دوسرے فرقوں کو ناری اور امام وقت کی جماعت کو ناجی قرار دیا ہے۔پس جس طرح مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھ سکتے۔اسی طرح احمدی دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جو مامورمن اللہ کے منکر اور مکفر ہیں، نماز نہیں پڑھ سکتے۔(ج) حدیث شریف میں آتا ہے۔کہ من کفر اخاہ المومن فيعود عليه كفرة 80 يعنى جو شخص اپنے مومن بھائی کو کافر کہے وہ خود کا فر ہو جاتا ہے۔پس جب علماء نے ہم پر اور ہمارے امام پر فتویٰ تکفیر لگایا ہے تو ہم ایسے لوگوں کے پیچھے نماز کیسے پڑھ سکتے ہیں۔(۵) امام اور مقتدی کے درمیان موافقت کا پایا جانا از بس ضروری ہے۔اور سورۃ فاتحہ جس کا ہر رکعت میں پڑھنا ضروری ہے۔اس میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّين کے الفاظ آئے ہیں اور اس دعا میں منعمین کی راہ کو طلب کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور مغضوب علیھم یعنی کافروں اور ضالین یعنی منافقوں سے بچنے کی دعا سکھلائی گئی ہے۔اب اگر امام سمجھتا ہے کہ مقتدی مغضُوبِ عَلَيْهِمُ یا ضالین میں شامل ہیں یا مقتدی سمجھتے ہیں کہ امام مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ یا ضالین کے گروہ میں شامل ہے۔تو کیا ایسے پر متفق ہونا امام اور مقتدیوں کا سورۃ فاتحہ کے اختتام پر آمین کہنا۔اور با وجود باہمی اختلاف کے آمین پر درست اور قابل قبول ہوگا۔میں نے مندرجہ بالا جوابات تفصیل کے ساتھ پیش کئے اور مولوی واعظ الدین صاحب کو موقع دیا کہ وہ اگر ان جوابات پر قرآن کریم یا حدیث کی رُو سے جرح کرنا چاہیں تو بخوشی کر سکتے ہیں۔لیکن ان کو جرات نہ ہوئی۔بعد ازاں دوسرے اجلاس میں پھر انہوں نے حضرت مولوی سرورشاہ صاحب کی تقریر کے موقع پر ایک غیر متعلق سوال پیش کر کے شور ڈالنا چاہا۔لیکن حضرت مولوی صاحب کے ایما پر جب میں