حیات قدسی

by Other Authors

Page 321 of 688

حیات قدسی — Page 321

۳۲۱ کر دیئے۔حضرت مولوی صاحب کی آہستہ اور نرم آواز کی وجہ سے اس کو اور بھی زیادہ جرات ہوئی۔مولوی واعظ الدین صاحب کے اعتراض کا تعلق حضرت مولوی صاحب کی تقریر سے نہ تھا بلکہ یہ اعتراض محض احمدیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی غرض سے تھا۔ان کے پیش کر دہ اعتراض کا خلاصہ یہ تھا۔کہ احمدی وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِینَ کے خلاف عمل کرتے ہیں۔دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر نماز نہیں پڑھتے اور نہ ہی ان کی اقتداء میں نماز پڑھنا جائز سمجھتے ہیں۔حضرت مولوی سر ورشاہ صاحب کی تقریر کے خاتمہ پر سب ارکانِ وفد نے خاکسار سے اس اعتراض کا جواب دینے کی فرمائش کی۔جب میں جواب دینے کے لئے کھڑا ہوا تو مولوی واعظ الدین نے پھر شور کیا کہ میں نے جواب مولوی سرور شاہ صاحب سے مانگا ہے۔مولوی غلام رسول صاحب را جیکی سے نہیں مانگا۔میں نے عرض کیا کہ جب آپ کی غرض جواب سے ہے تو خواہ ہم میں سے کوئی دے آپ کو اعتراض نہیں ہونا چاہیئے۔اور میں جواب حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے حکم سے ہی دے رہا ہوں جو ہمارے امیر وفد ہیں۔لیکن جب مولوی واعظ الدین بار بار اپنا مطالبہ دہراتے رہے اور شور ڈالنے سے باز نہ آئے تو بعض معزز غیر احمدیوں نے بھی ان کے مطالبہ کی لغویت کو ان پر واضح کیا تب وہ خاموش ہو گئے۔میں نے اس اعتراض کے جو جوابات اس وقت دیئے ان کا خلاصہ درج ذیل ہے:۔(1) وَاركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِینَ کا فقرہ سورہ بقرہ میں پایا جاتا ہے۔اس آیت میں اور اس کے سیاق و سباق میں بنی اسرائیل کو مخاطب کیا گیا ہے نہ کہ مسلمانوں کو اور وَاركَعُوا مَعَ الرَّاكِعِین کے حکم میں بھی بنی اسرائیل مخاطب ہیں نہ کہ مسلمان۔پس جب یہ حکم بنی اسرائیل کے لئے ہے تو اس کی وجہ سے احمدیوں پر اعتراض کرنا درست نہیں۔(ب) اس آیت میں پہلے لوگوں کو حکم ہے کہ پچھلے لوگوں کے ساتھ مل کر رکوع کرو یعنی بنی اسرائیل کو حکم ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں مل کر نماز ادا کرو اور رکوع کرو لیکن مسلمانوں کو یہ حکم نہیں کہ وہ یہودیوں یا دوسرے اہل کتاب سے مل کر نماز ادا ہے کریں اور نہ ہی کبھی مسلمانوں نے اس کو جائز سمجھا ہے کہ وہ اہل کتاب کے ساتھ مل کر نماز ادا کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی جب مسلمان سب سے زیادہ قرآن کریم کے حکموں پر