حیات قدسی — Page 323
۳۲۳ جواب کے لئے کھڑا ہوا تو مولوی واعظ الدین جلسہ گاہ سے باہر چلے گئے۔ہمارا وفد تقریباً سترہ دن تک بنگال کے مختلف مقامات کا دورہ کر کے تبلیغ حق کا فریضہ ادا کرتا ہے رہا۔اس سفر کے نتیجہ میں خاکسار نا موافق آب و ہوا اور کثرت کار کی وجہ سے شدید بیمار ہو گیا اور عرصہ تک حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زیر علاج رہا۔جس کی تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔تحصیل زیرہ ضلع فیروز پور کا ایک واقعہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ وارضاہ کے عہدِ سعادت میں جب میں لاہور میں مقیم تھا تو حضور کی طرف سے مجھے ارشاد پہنچا کہ آپ فوراً زیرہ پہنچ جائیں۔وہاں کے احمدیوں نے درخواست کی ہے اور آپ کو بلایا ہے۔جب یہ حکم پہنچا تو میں اسہال کی وجہ سے سخت بیمار اور بہت کمزور تھا۔گھر والوں نے بھی کہا کہ آپ زیادہ بیمار ہیں۔اس حالت میں سفر خطر ناک ہے۔لیکن میں نے تعمیل ارشاد میں توقف کرنا مناسب نہ سمجھا اور سفر پر روانہ ہوگیا۔جب میں زیرہ پہنچا تو وہاں میاں محمد صادق صاحب سب انسپکٹر پولیس ، حکیم مولوی اللہ بخش صاحب اور دوسرے احمدی احباب سے ملاقات ہوئی۔(میاں محمد صادق صاحب آجکل ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کے عہدہ سے ریٹائر ڈ ہو چکے ہیں۔آپ نے مع جناب ماسٹر فقیر اللہ صاحب غیر مبائعین سے علیحدہ ہو کر خلافت حقہ کی بیعت کی سعادت حاصل کر لی ہے ) احمدی احباب سے معلوم ہوا کہ زیرہ کے بڑے تحصیلدار مولوی جان محمد صاحب اور میاں محمد صادق صاحب احمدی کے درمیان کچھ عرصہ سے مذہبی مسائل پر بحث جاری ہے۔مولوی جان محمد صاحب نے یہ پسند کیا کہ وہ اپنے حنفی علماء کو اور شیخ صاحب اپنے کسی احمدی عالم کو بلوا لیں۔تاکہ مسائل متنازعہ میں بحث کے ذریعہ سے احقائق حق ہو سکے۔چنانچہ مولوی جان محمد صاحب کی دعوت پر چھ سات علماء زیرہ آچکے تھے۔خاکسار کو مباحثہ کا قطعا علم نہ تھا۔اور میرے پاس اس وقت صرف ایک حمائل شریف تھی۔جس دن میں وہاں پہنچا اسی رات حنفی علماء کا جلسہ تھا جن کے امیر الوفد مولوی محمد عظیم صاحب تھے۔غیر احمدی علماء کی تقاریر سننے کے لئے ہم احمدی بھی جلسہ گاہ میں پہنچے۔مولوی کے محمد عظیم صاحب نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ احمدیوں کی بات سننے سے پر ہیز کرنی