حیات قدسی — Page 190
۱۹۰ احمدی نہ تھیں۔ان پر بھی اس نشان صداقت کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ بھی خدا کے فضل سے اس کے بعد احمدی ہوگئیں۔۔والحمد لله على ذالك والشكر لله خير الناصرين والصلوة والسلام على مسيح محمد و مطاعه و آله و اهلبیته اجمعين۔نذرانہ حیدر آباد کے قیام کے دوران میں مجھے یہ معلوم ہوا کہ نظام حیدرآباد کی طرف سے یہ دستور مقرر ہے کہ۔۔۔۔ان کے پاس بطور عقیدت یا محبت یا آداب کے چاندی کا روپیہ پیش کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔۔۔صرف سونے کی اشرفی یا سونے کا پونڈ ہی قبولیت کا شرف حاصل کر سکتے ہیں۔میں نے جب یہ بات سنی تو مجھے حضرت رب العزت ، احکم الحاکمین ، سلطان السلاطین، صاحب جلال و جبروت خدا کی عظمت کا خیال آیا کہ وہ قدوس ہستی اپنے عباد سے ایک حقیر سے حقیر دانہ بھی قبول فرماتی ہے اور مثقال ذرۃ کو بھی رد نہیں کرتی بلکہ اس کو بڑھا چڑھا کر انعام بھی اپنی بخشش سے عطا کرتی ہے یہی حال ہے اللہ جل شانہ کے نائین اور پاک بندوں کا ہے۔چنانچہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور میری طرف سے چند پیسوں کے بتاشوں کو پیش کرنے اور حضور اقدس کے ان کو بخوشی قبول فرمانے کا واقعہ کی پہلی جلدوں میں لکھ چکا ہوں ذیل میں حضرت خلیفۃ المسیح اولا۔۔۔۔ایک واقعہ بھی درج کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اول کا ایک دھیلہ کو قبول کرنا ! حضرت مولانا حکیم مولوی نورالدین صاحب خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ وارضاه في الجنة الرفیعہ بالدرجات العلیاء ہندوستان کے اطباء کے نزدیک رئیس الاطباء اور افسر الاطباء کے لقب سے شہرت رکھتے تھے۔آپ ایک دن بزم خلافت میں رونق افروز تھے۔اس میں آپ نے اپنے سوانح حیات میں سے ایک واقعہ بیان فرمایا۔خاکسار بھی اس مجلس میں موجود تھا آپ نے بیان فرمایا کہ ایک دفعہ ایک بوڑھی غریب عورت جس کا ایک ہی لڑکا تھا وہ بیمار ہو گیا۔میں نے اس کا علاج کیا۔خدا کے فضل سے اسے صحت ہوگئی اور وہ بالکل تندرست ہو گیا۔وہ بڑھیا میرے پاس آئی اور میرے سامنے