حیات قدسی — Page 177
122 جب ہم مسجد سے نکل کر شیخ مولا بخش صاحب کے ڈیرے پر آئے تو وہاں پر آٹھ افراد جو اس نشان کو دیکھ چکے تھے، بیعت کرنے کے لئے انتظار میں بیٹھے تھے۔انہوں نے بصد شوق اس نشان کا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے سلسلہ حقہ کے لئے ظاہر فرمایا تھا، اقرار کیا اور بیعت قبول کرنے کے لئے سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ عنہ وارضاہ کے حضور درخواستیں بھجوا ئیں۔اس مباحثہ کی روئیداد کی اطلاع جب سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح کے حضور پہنچی تو آپ بہت خوش ہوئے اور اس عاجز کے حق میں دعا فرمائی۔فالحمد للہ علی ذالک ایک رشتہ کے متعلق اعجازی کرشمہ مستری میاں محمد دین صاحب ساکن گولیکی ضلع گجرات بہت مخلص اور شریف طبع اور مضبوط وقوی ہیکل جوان تھے۔ان کی پہلی بیوی فوت ہونے پر ان کے بھائی میاں قطب الدین صاحب نے ان کے رشتہ کے لئے مستری کریم بخش صاحب اور حسن محمد صاحب ساکن موضع سعد اللہ پور کی ہمشیرہ کے متعلق تحریک کی۔اس رشتہ کے بارہ میں ان کو بتایا گیا کہ لڑکی احمدی ہونے سے پہلے اپنے کو غیر احمدی پھوپھی زاد بھائی کے ساتھ منسوب ہو چکی ہے اور اب اس کے بھائی اس کی نسبت کو توڑنے کے لئے تیار نہیں۔چنانچہ بار بار کی تحریک کے باوجود وہ راضی نہ ہوئے تو میاں قطب الدین صاحب اور محمد دین صاحب نے سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ کے حضور عریضہ ارسال کیا کہ میاں کریم بخش و برادرش اپنی ہمشیرہ کا نکاح ایک غیر احمدی سے کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور با وجود اس کے کہ ہم نے کئی معزز احمدیوں کے ذریعہ تحریک کی ہے ، وہ رشتہ دینے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔اگر حضور مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کو ارشاد فرما ئیں تو امید ہے کہ ان کے کہنے پر انشاء اللہ رشتہ غیر احمدیوں کے ہاں ہونے سے رک جائے گا۔میری کوشش چنانچہ حضور اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کا میرے نام ارشاد ہوا کہ میں سعد اللہ پور جا کر کوشش کرو