حیات قدسی — Page 178
۱۷۸ میں پہلے موضع گولیکی گیا اور میاں قطب الدین اور محمد دین کو ساتھ لیا۔وہاں سے ہم موضع سعد اللہ پور پہنچے۔موضع سعد اللہ پور میں میں نے سب احمدیوں کو اکٹھا کر کے حضرت کے حکم سے ان کو اچھی طرح آگاہ کر دیا اور لڑکی اور اس کے دونوں بھائیوں کو بھی اچھی طرح فہمالیش کر دی لیکن سب نے یہی غور کیا کہ ہماری پھوپھی صاحبہ معہ اپنے لڑکے کے ہمارے دروازے پر بیٹھی ہیں ہم اسے کس طرح ناراض کریں اور نسبت کو توڑیں۔جب عصر کا وقت ہوا تو میں نے چار پانچ آدمی ان کو سمجھانے کے لئے بھیجے لیکن کامیابی نہ ہوئی۔اس کے بعد مغرب کے بعد میں نے دو اور معزز احمدیوں کو ان کے پاس بھیجا اور پیغام دیا کہ اب یہ میرا آخری پیغام ہے۔میں حضرت اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے ماتحت آیا ہوں۔اگر آپ نے حضور کے حکم کی اب بھی نافرمانی کی تو اس کا انجام برا ہوگا اور بعد میں پچھتانا پڑے گا۔اس وقت میاں محمد دین اور اس کا بھائی مایوس ہو چکے تھے۔انہوں نے مجھ سے اپنے گاؤں واپس جانے کی اجازت چاہی۔میں نے کہا کہ آپ کو واپس جانے کی ابھی ضرورت نہیں ہم نے لڑکی کا نکاح میاں محمد دین صاحب سے ضرور کرانا ہے اور بغیر اس کے واپس نہیں جانا۔کیونکہ ہم حضرت صاحب کے حکم سے آئے ہیں۔میرے منہ سے یہ الفاظ کچھ ایسے جوش اور جلال سے نکلے کہ سب لوگوں نے حیرت زدہ ہو کر ان کو سنا۔چونکہ لڑکی والے رشتہ میاں محمد دین صاحب کو دینے سے قطعی انکار کر رہے تھے۔اس لئے خالق الاسباب سے التجا میں نے کہا کہ اس سے پہلے ہم نے اسباب کی رعایت سے خُلق سے کام لیا ہے۔اب ہم خالق الاسباب اور قادر مطلق ہستی سے التجا کر کے اس سے براہ راست کام لیں گے۔چنانچہ مغرب کے بعد میں نے نہایت خشوع خضوع اور الحاح سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی اور عرض کیا کہ اے میرے مولیٰ کریم جس کام کے لئے ہم نے کوشش کی ہے اس میں ہمارا اپنا ذاتی تو کوئی مقصد نہ تھا۔بجز اس کے کہ تیرے پاک مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کا اجراء اور تیرے پاک خلیفہ کے حکم کی تعمیل ہو۔پس تو اپنی خاص نصرت نازل فرماور نہ کمز ور احمد یوں میں غیر احمدیوں کولڑ کی دینے کی رو پھیلنے سے جماعت کو بھی نقصان پہنچے گا۔میں یہ دعا کر ہی رہا تھا کہ میرے دل میں انشراح صدر اور