حیات قدسی — Page 122
۱۲۲ تھا کہ آپ نے اپنی ذاتی اور زرخرید جائیداد میں اپنے تینوں بھائیوں یعنی میاں عمر الدین صاحب اور میاں فضل الہی صاحب اور میاں کرم الدین صاحب کو بھی برابر کا حصہ دار بنایا ہوا تھا۔پھر جب آپ کے چھوٹے بھائی میاں عمر الدین صاحب فوت ہو گئے اور آپ کے ایک بھائی نے ان کی جائداد پر قبضہ کر لیا تو آپ نے اس مرحوم بھائی کے بچوں کا حق دلانے کے لئے اس بھائی کے خلاف ہائیکورٹ تک مقدمہ لڑا اور آخر ان بچوں کا حق دلا کے ہی چھوڑا۔دعائے مستجاب ایک دفعہ آپ کی چھوٹی ہمشیرہ اپنے لڑ کے چوہدری محبوب عالم کو لے کر آپ کے پاس آئی اور آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ محبوب عالم اب دسویں جماعت پاس کر چکا ہے اس لئے آپ اسے کہیں ملا زم کرا دیں۔آپ اسی وقت اپنے اس بھانجے کو ساتھ لے کر سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس میں قادیان حاضر ہوئے اور حضور سے اس کے متعلق دعا کی درخواست کی۔چنانچہ حضور علیہ السلام نے چوہدری محبوب عالم کے لئے دعا فرمائی۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے چوہدری محبوب عالم کے لئے ملازمت کا سامان کر دیا اور پھر اس ملازمت میں انہیں اتنی ترقی اور برکت عطا فرمائی کہ وہ ایک اعلیٰ سرکاری عہدہ پر فائز ہو گئے۔چوہدری محبوب عالم صاحب تو عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں مگر ان کے لڑکے چوہدری بشیر احمد خاں صاحب اور چوہدری نذیر احمد خاں صاحب پاکستان حکومت کے ممتاز عہدوں پر فائز ہیں جن میں سے مؤخر الذکر اس وقت مرکزی حکومت کی وزارت صنعت و حرفت کے عہدہ پر متمکن ہیں۔اطاعت والدین حضرت مولوی صاحب موصوف کو اپنے والدین کی اطاعت اور خوشنودی کا اتنا خیال تھا کہ بچپن کے زمانہ میں جب آپ کے چھوٹے بھائی میاں فضل الہی صاحب گھر سے بغیر پوچھے کہیں چلے گئے اور آپ کے والدین نے ان کی جدائی کو محسوس کرتے ہوئے آپ سے ان کا پتہ لگانے کے لئے ارشا د فرمایا تو آپ اسی وقت اپنے بھائی کا سراغ لگانے کے لئے گھر سے چل پڑے۔اس زمانہ میں