حیات قدسی

by Other Authors

Page 123 of 688

حیات قدسی — Page 123

۱۲۳ چونکہ ریلوں کا انتظام نہیں تھا اس لئے آپ ان کی تلاش میں پا پیادہ دہلی پہنچے۔حسن اتفاق سے ایک دن آپ دہلی کے کسی بازار میں سے گزر رہے تھے کہ آپ نے اپنے بھائی کو گھوڑے پر جاتے ہوئے دیکھا آپ بھی اس کے پیچھے ہو لئے اور چلتے چلتے اس مکان کے دروازہ پر پہنچ گئے جہاں آپ کا بھائی داخل ہوا تھا۔صاحب مکان جو بہادر شاہ ظفر کا خاص مصاحب اور سلطنت مغلیہ میں کسی ممتاز عہدہ پر فائز تھا۔نے جب آپ کو دیکھا تو آنے کا سبب پوچھا۔آپ نے اسے بتایا کہ اس طرح میں اپنے بھائی کی تلاش میں پنجاب سے آیا ہوں اور اب میں نے اسے دیکھا ہے کہ وہ آپ کے مکان میں داخل ہوا ہے یہ سن کر اس رئیس نے کہا کہ اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ میرے پاس ایک پنجابی لڑکا رہتا ہے مگر اس نے تو مجھے یہ بتایا تھا کہ میرے ماں باپ اور بھائی بہن سب مر چکے ہیں۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے کہا کہ آپ ذرا اسے میرے سامنے بلا دیجئے پھر آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ اس کے بھائی بہن اور والدین زندہ ہیں یا مرچکے ہیں۔چنانچہ اسی وقت جب اس رئیس نے فضل الہی کو مولوی صاحب کے سامنے بلایا اور اس نے اپنے بڑے بھائی کو دیکھا تو سب حقیقت ظاہر ہو گئی۔اس رئیس نے جب یہ دیکھا کہ واقعی فضل الہی مولوی صاحب کا بھائی ہے تو اس نے آپ سے کہا کہ میں اس لڑکے کو اپنا بیٹا سمجھ کر تعلیم دلا رہا ہوں اگر آپ اس کو ساتھ لے گئے تو اس کی تعلیم میں بہت حرج ہوگا اس لئے یہی مناسب ہے کہ آپ جا کر اپنے والدین کو ہماری طرف سے تسلی دیدیں اور اس لڑکے کو میرے پاس ہی رہنے دیں۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ چونکہ میرے والدین اس کی جدائی میں بہت افسردہ خاطر رہتے ہیں اس لئے مناسب یہی ہے کہ آپ ایک دفعہ اسے میرے ساتھ بھیج دیں تا کہ یہ اپنے والدین سے مل آئے اس کے بعد انشاء اللہ پھر یہ آپ کے پاس چلا آئے گا۔چنانچہ اس رئیس نے اس شرط پر ان کو اجازت دے دی اور والدین کی ملاقات کے بعد وہ پھر دہلی چلے گئے۔آخر جب ان کی تعلیم مکمل ہو گئی اور انگریزی عملداری کا دور دورہ ہو گیا تو وہ وہیں دہلی میں ملا زم ہو گئے۔اور اس کے بعد امرتسر شہر میں تحصیلدار کے عہدہ پر فائز ہو گئے۔ہمدردی مخلوق حضرت مولوی صاحب کو مخلوق کی ہمدردی کا اتنا خیال تھا کہ ایک دفعہ آپ نے ایک رئیس زمیندار کا علاج کیا تو اس نے اچھا ہونے پر آپ کو کہا کہ اس علاج کے معاوضہ میں آپ مجھ سے چھپیں