حیاتِ نور — Page 48
اب اول اتِ نُ دوسرا واقعہ آپ کو یہ پیش آیا کہ هزت آپ میں آپ کو خطرناک رنگ میں سیلان اللعاب شروع ہو گیا۔جس میں بدبودار سیاہ رنگ کا پانی نکلتا تھا۔ایک شخص حکیم فرزند علی نے آپ کو رائے دی کہ اگر آپ کا وطن قریب ہو تو آپ فورا چلے جائیں۔اس احتراقی مواد سے بچنے کی کوئی امید نہیں۔آپ فرماتے ہیں: شام کے وقت ایک بزرگ جو وہاں مہتم طلبة العلم تھے اور نہایت ہی مخلصانہ حالت میں تھے۔کہنے لگے، میں بوڑھا ہوں۔میرے منہ سے لعاب آتا ہے کوئی ایسی چیز بتاؤ جو افطار کے وقت کھا لیا کروں۔میں نے کہا۔مربہ آملہ بنارسی ، دانہ الا بچی اور ورق طلا سے افطار کریں۔وہ یہ نسخہ دریافت کر کے گئے۔معا واپس آئے اور ایک مرتبان مربہ اور بہت سی الائچیاں اور دفتری ورق طلا کی میرے سامنے لا رکھی اور کہا کہ آپ کے منہ سے بھی لعاب آتا ہے۔آپ بھی کھائیں۔میں نے ان کو کھانا شروع کیا۔ایک آدھ کے کھانے سے چند منٹ کے لئے تخفیف ہو گئی۔پھر جب پانی کا آغاز ہوا تو ایک اور کھالیا۔غرض مجھے یاد نہیں کہ کس قد رکھا گیا۔عشاء کے بعد مجھے بہت تخفیف ہوگئی اور میں نے وطن جانے کی بجائے حرمین کا ارادہ کر لیا۔19 مولوی عبد القیوم صاحب کا ایک نکتہ آپ فرماتے ہیں: میں جب بھوپال سے رخصت ہونے لگا۔تو اپنے استاد مولوی عبدالقیوم صاحب کی خدمت میں رخصتی ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔سینکڑوں آدمی بطریق مشایعت میرے ہمراہ تھے۔جن میں اکثر علماء اور معزز طبقہ کے آدمی تھے۔میں نے مولوی صاحب سے عرض کی کہ مجھ کو کوئی ایسی بات بتا ئیں جس سے میں خوش رہوں۔فرمایا کہ ”خدا نہ بننا اور رسول نہ بننا“ میں نے عرض کیا کہ حضرت ! میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی اور یہ بڑے بڑے عالم موجود ہیں غالباً یہ بھی نہ سمجھے ہوں۔سب نے کہا۔ہاں ہم بھی نہیں سمجھے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ تم خدا کس کو کہتے ہو۔میری زبان سے نکلا کہ خدا ـور