حیاتِ نور — Page 47
اتِ نُـ ـور ۴۷ کے چوری جانے پر خدا کے فضل سے اپنے دل میں کوئی تکلیف محسوس نہ کی بلکہ میں نے سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر بنا دینا چاہتا ہے۔تب میں نے شرح صدر سے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور صبر کے شکریہ میں دوسری کسی حاجتمند کو دیدی۔چند روز ہی اس واقعہ پر گزرے تھے کہ شہر کے ایک امیر زادہ کو سوزاک ہوا۔اور اس نے ایک شخص سے جو میرا بھی آشنا تھا کہا کہ کوئی ایسا شخص لاؤ جو طبیب مشہور نہ ہو اور کوئی ایسی دوا بتا دے جس کو میں خود بنالوں۔وہ میرے پاس آیا اور مجھے اس کے پاس لے گیا۔میں نے سنکر کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں صدری ہے۔میں جب وہاں پہنچا تو وہ اپنے باغ میں بیٹھا تھا۔میں اس کے پاس کرسی پر جا بیٹھا۔تو اس نے اپنی حالت کو بیان کر کے کہا کہ ایسا نسخہ تجویز کر دیں جو میں خود ہی بنالوں۔میں نے کہا۔ہاں ہو سکتا ہے جہاں ہم بیٹھے تھے وہاں کیلا کے درخت تھے۔میں نے اس کو کہا کہ کیلا کا پانی ۵ تولہ لے کر اس میں ایک ماشہ شورہ قلمی ملا کر پی لو۔اس نے جھٹ اس کی تعمیل کر لی۔کیونکہ شورہ بھی موجود تھا۔اپنے ہاتھ سے دوائی بنا کر پی لی۔میں چلا گیا۔دوسرے دن پھر میں گیا تو اس نے کہا مجھے تو ایک ہی مرتبہ پینے سے آرام ہو گیا ہے اب حاجت ہی نہیں رہی۔میں تو جانتا تھا کہ یہ موقعہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل نے پیدا کر دیا ہے اور آپ ہی میری توجہ اس علاج کی طرف پھیر دی۔میں تو پھر چلا آیا۔مگر اس نے میرے دوست کو نیلا کر زربفت کمخواب وغیرہ کے قیمتی لباس اور بہت سے روپے میرے پاس بھیجے۔جب وہ میرے پاس لایا تو میں نے اس کو کہا کہ یہ وہی صدری ہے۔وہ حیران تھا کہ صدری کا کیا معاملہ ہے۔آخر سارا قصہ اس کو بتایا اور اس کو میں نے کہا زربفت وغیرہ تو ہم پہنتے نہیں۔اس کو بازار میں بیچ لاؤ۔چنانچہ وہ بہت قیمت پر بیچ لایا۔اب میرے پاس اتنا روپیہ ہو گیا کہ حج فرض ہو گیا۔اس لئے میں نے اس کو کہا کہ اب حج کو جاتے ہیں کیونکہ حج فرض ہو گیا ہے۔غرض اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کو کچھ بھی نقصان نہیں ہوتا۔ہاں اس میں دنیا کی ملونی نہیں چاہئے بلکہ خالصا لوجہ اللہ ہو۔اللہ کی رضا مقصود ہو اور اس کی مخلوق پر شفقت ملحوظ ہو