حیاتِ نور — Page 573
۵۶۸ اللهم متعنا بطول حياته) تو پھر وہی کھڑا ہو گا۔جس کو خدا چاہے گا اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔تم نے میرے ہاتھوں پر اقرار کئے ہیں۔تم خلافت کا نام نہ لو۔مجھے خدا نے خلیفہ بنا دیا ہے اور اب نہ تمہارے کہنے سے معزول ہو سکتا ہوں اور نہ کسی میں طاقت ہے کہ وہ معزول کرے۔اگر تم زیادہ زور دو گے تو یا درکھو کہ میرے پاس ایسے خالد بن ولید ہیں۔جو تمہیں مرتدوں کی طرح سزا دیں گے۔دیکھو! میری دعا ئیں عرش میں بھی سنی جاتی ہیں۔میرا مولیٰ میرے کام میری دُعا سے بھی پہلے کر دیتا ہے۔میرے ساتھ لڑائی کرنا خدا سے لڑائی کرنا ہے۔تم ایسی باتوں کو چھوڑ دو اور تو یہ کرلو۔۔۔تھوڑے دن صبر کرو۔پھر جو پیچھے آئے گا۔اللہ تعالیٰ جیسا چاہے گا وہ تم سے معاملہ کرے گا۔سنو ! تمہاری نزاعیں تین قسم کی ہیں۔اول ان امور اور مسائل کے متعلق ہیں۔جن کا فیصلہ حضرت صاحب نے کر دیا ہے۔جو حضرت صاحب کے فیصلہ کے خلاف کرتا ہے وہ احمدی نہیں۔جن پر حضرت صاحب نے گفتگو نہیں کی ان پر بولنے کا تمہیں خود کوئی حق نہیں۔جب تک ہمارے دربار سے تم کو اجازت نہ ملے۔پس جب تک خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفہ کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا ان پر رائے زنی نہ کرو۔جن پر ہمارے امام اور مقتدا نے قلم نہیں اٹھایا۔تم ان پر جرات نہ کرو ور نہ تمہاری تحریریں اور کاغذ ردی کر دیں گے۔تم میں کوئی تصنیف کرتا ہے اور اگر کہو کہ تمہارا قلم نہیں لکھ سکتا۔تو کیا ہم بھی نہ لکھیں؟ تو نور الدین ، تصدیق فصل الخطاب، ابطال الوہیت مسیح کو پڑھ لو۔مجھے لکھنا آتا ہے اور خوب آتا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کی ایک مصلحت نے روک رکھا ہے اور ہاں خدا نے روکا ہے۔۔۔اب میں پھر نصیحت کرتا ہوں۔میرے بڑھاپے اور بیماری کو دیکھ لو۔اپنے اختلافوں کو دیکھ لو۔کیا یہ تمہیں خدا سے ملادیں گے۔اگر نہیں تو پھر ہماری بات مانو اور محبت سے رہو اور اس طرح پر رہو کہ میں تمہیں دیکھ کر اسی طرح خوش ہو جاؤں جس طرح پر مسجد کو دیکھ کر خوش ہوا۔جس طرح شہر میں داخل ہو کر مسجد کو دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی خدا کرے کہ جاتے ہوئے مجھے یہ آواز آدے کہ تم باہم