حیاتِ نور — Page 574
۵۶۹ ایک ہو۔اور تم محبت سے رہتے ہو۔تم بھی دعاؤں سے کام لو۔میں بھی تمہارے لئے دعا ئیں کروں گا۔وباللہ توفیق، 10 حضرت خلیفة المسیح الاول کے زمانہ خلافت کا غالباً سب سے اہم کارنامہ یہ ہے کہ آپ نے خلافت کے مقام کی عظمت کو قائم رکھنے کے لئے جس جرات اور اولوالعزمی کا ثبوت دیا ہے اگر اسے اس وقت کے حالات کے لحاظ سے بے نظیر قرار دیا جائے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔آپ کے مقابل پر جو لوگ تھے وہ صدر انجمن کے کرتا دھرتا تھے اور اپنی خدمات اور زمانہ حال کی اعلیٰ ڈگریوں کی وجہ سے یہ سمجھتے تھے کہ جماعت میں انہیں اس قدر وقار اور اعزاز حاصل ہے کہ وہ اگر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کی غلط تعبیر کر کے بھی جماعت کو اپنے پیچھے لگانا چاہیں تو وہ ایسا کرنے کی مقدرت رکھتے ہیں۔چنانچہ اسی خیال کی بناء پر انہوں نے جماعت کے عقائد کو بگاڑنے کی کوششیں کیں۔جن میں سے غالبا سب سے بڑی کوشش یہ تھی کہ وہ انجمن کو حاکم اور خلیفہ کو حکوم بنانا چاہتے تھے۔بلکہ ان کے ارادے تو یہاں تک خطر ناک تھے کہ اگر ان کا بس چلے تو وہ خلیفہ مسیح کو خلافت سے معزول کرنے پر بھی آمادہ تھے۔مگر حضرت خلیفہ المسیح کی گرفت ایسی مضبوط تھی کہ جب آپ ان لوگوں کی غلط روش اور بے راہ رومی کو بے نقاب کرنے کے لئے جماعت کو خطاب فرماتے تھے تو آپ کا انداز اس قدر پر شوکت اور پر جلال ہوتا تھا کہ کیا مجال تھی کسی کی کہ وہ اٹھ کر آپ کی کسی بات کو رد کر سکے۔آپ کے فرامین کو سن کر یہ لوگ سارے کے سارے جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے تھے۔اور معافیاں مانگنے کے سوا انہیں کوئی چارہ نہیں ہوتا تھا۔خلافت کے مقام کی عظمت کو قائم کرنے کے سلسلہ میں یقینا آپ کا جماعت پر اس قدر احسان ہے کہ اسے قیامت تک نہیں بھلایا جا سکتا۔کیونکہ اگر خدانخواستہ اس خطرناک زلزلے کے وقت آپ کے قدم ڈگمگا جاتے اور آپ وقتی طور پر پر ان لوگوں کے فتنے سے مرعوب ہوکر ان کے آگے جھک جاتے۔تو آج عالم احمدیت کا نقشہ ہی اور ہوتا۔سلسلہ کی وہ عظمت جو آج اسے قیام خلافت کی وجہ سے حاصل ہے۔یقیناً قائم نہ رہتی۔اور سلسلہ دنیا کی اور انجمنوں کی طرح ایک انجمن بن کر رہ جاتا۔مگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید سے گری ہوئی جماعت کو سنبھال لیا اور تشتت اور پراگندگی کی زندگی سے بچا کر وحدت کی سلک میں پرو دیا۔اور اپنے اس عظیم الشان کارنامے سے آنے والی نسلوں کو یہ قیمتی سبق دیا کہ خلافت تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی ایک مقدس امانت اور اس کے افضال میں سے ایک عظیم الشان فضل ہے۔اگر تم نے اس مقدس امانت کی حفاظت اور اس بڑے فضل کی قدر کی تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں ترقی کے راستہ پر گامزن ہونے سے روک نہیں ـور