حیاتِ نور

by Other Authors

Page 124 of 831

حیاتِ نور — Page 124

۱۲۳ ت نُور مہاراجہ کشمیر کی آپ سے ڈرنے کی وجہ آپ فرماتے ہیں کہ مہاراجہ کشمیر مجھ سے بہت ہی مدارات سے پیش آیا کرتے تھے۔ایک دن تنہائی میں مجھ سے کہا کہ آپ جانتے ہیں ہم آپ سے کیوں ڈرتے ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں۔کہنے لگے۔سلطان محمود غزنوی کوئی ذلیل آدمی نہ تھا۔شاہی خاندان کا ایک معزز شہزادہ تھا۔مگر ملا فردوسی نے دو شعر کہہ کر اسے ایک خطرناک ٹیکہ لگایا ہے اور وہ شعر یہ ہیں: اگر مادر شاہ بانو بدے حمد مراسیم و زر تا بزانو بدے اگر شاه را شاہ بودے پدر جمع بسر بر نہا دے مرا تاج و زر آپ بھی چونکہ مصنف ہیں۔اس لئے میں آپ سے بہت ڈرتا ہوں اور اسی وجہ سے آپ کا زیادہ خیال رکھتا ہوں۔حضرت مولانا کے ایک بچہ کی بیماری پر حضرت اقدس کا خط ۲۰ / اگست ۱۸۸۵ء اُوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے حضرت اقدس کے ساتھ پہلی ملاقات کے بعد ہی خط و کتابت شروع کر دی تھی۔کوئی کام بھی حضور کے مشورہ اور اجازت کے بغیر آپ نہیں کیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں عموماً آپ کی نرینہ اولا دفوت ہو جایا کرتی تھی۔اس لئے جب بھی کوئی بچہ بیمار ہوتا یا فوت ہو جاتا تو آپ فورا حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے لکھتے۔آپ کے اسی قسم کے ایک خط کے جواب میں حضرت اقدس کا ایک خط ملا ہے جو انسان کی روحانی تربیت کے لئے نہایت سبق آموز اور مفید ہے۔حضور فرماتے ہیں: از عاجز عاید باللہ الصمد غلام احمد بخدمت اخویم و مخدوم حکیم نور الدین صاحب سلمہ ربه السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ عنایت نامہ پہنچا۔حال صدمہ وفات لخت جگر آن مخدوم و علالت طبیعت پسر سوم سنگر موجب حزن و اندوہ ہوا۔اللہ جل شانہ آپ کو صدمہ گزشتہ کی نسبت صبر عطا فرما دے اور آپ کے قرۃ العین فرزند سوم کو جلد تر شفا بخشے۔انشاء اللہ القدیر یہ عاجز آپ کے فرزند کے لئے دعائے شفا کرے گا۔اللہ تعالیٰ مجھے کو اپنے فضل و