حیاتِ نور

by Other Authors

Page 123 of 831

حیاتِ نور — Page 123

ور ۱۲۳ والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور اس علاج میں زہر بھی ہے آپ فرماتے ہیں کہ یہ بات سن کر " مجھے بہت ہی ہنسی آئی کہ اہل دنیا کے تعلق کیا اور ان کی خدمتیں کیا اور ان کے معاہدات کیا ! بات چونکہ زیادہ پھیل گئی تھی اس لئے مقدمہ کرنے سے وہ لوگ ڈر گئے۔ایک دوسرا واقعہ اس ولیعبد سے متعلق آپ نے ایک اور واقعہ یہ بیان فرمایا ہے کہ جن دنوں آپ اس کا علاج کر رہے تھے ، آپ نے اسے فرمایا کہ آپ لوگوں کی عرضیاں سنا کریں۔چنانچہ ایک روز جبکہ وہ عرضیاں سُن رہا تھا ایک بارعب مصاحب نے اس کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور وہ عرضی جو اس کے ہاتھ میں تھی، پکڑ کر خش گالی کے ساتھ زور سے زمین پر پھینک دی اور لگا اس کی نبض دیکھنے نبض دیکھ کر اس کو مخاطب کر کے بولا کہ تم لوگ بڑے شریر ہو، سرکار کی طبیعت مضمحل ہو رہی ہے اور تم عرضی پر عرضی پیش کر رہے ہو۔خبردار! آئندہ عرضیاں پیش نہ کیا کرو۔اس نے حضور کو تکلیف ہوتی ہے۔پھر کیوڑہ اور بید مشک اٹھا کر استعمال کیا۔اس پر لوگوں نے کہا اب ذرا طبیعت سنبھل گئی ہے۔ادھر آپ کے پاس ایک سوار آیا۔جس نے جا کر یہ خبر دی کہ سرکار کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے، جلد پہنچے۔جب آپ پہنچے تو ولیعہد صاحب سیڑھیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔آپ کو دیکھتے ہی فرمایا کہ مولوی صاحب ! آپ تو دور رہتے ہیں قریب آجائیں تو اچھا ہے۔یہ سارے لوگ کہہ رہے تھے کہ میری حالت بہت ہی خراب ہو گئی تھی اور کیوڑہ اور بید مشک پیا تو اب کہتے ہیں کہ ذرا طبیعت ٹھیک ہے۔آپ نے فرمایا۔اب آپ کا کیا ارادہ ہے۔اس نے کہا۔شکار کے لئے جارہا ہوں۔فرمایا۔میں بھی چلتا ہوں۔جنگل میں ایک جگہ موقعہ پا کر آپ نے دریافت کیا کہ آپ کو خود بھی کچھ معلوم ہوا تھا کہ طبیعت خراب ہے۔کہا کہ مجھ کو تو کچھ معلوم نہیں ہوا۔مگر لوگ کہہ رہے تھے کہ تمہاری طبیعت خراب ہو گئی ہے۔تب آپ نے اسے بتایا کہ یہ تو ملا جی کے شاگردوں والا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔جب واپس پہنچے۔تو ولیعہد کا بڑا چہیتا اور معتمد مشخص جسے وہ وزیر کے لفظ سے پکارا کرتا تھا، آپ کے پاس آیا اور کہا کہ آپ یہاں علاج کرنے آئے ہیں یا ہمارے ولیعہد کو حکومت سکھانے آئے ہیں؟ آپ بس اپنا کام کیا کریں ورنہ آپ کو تکلیف ہوگی۔یہ لوگ اگر ایسے ہو جا ئیں جیسا آپ چاہتے ہیں تو ہم لوگ روٹی کہاں سے کھائیں۔