حیاتِ نور

by Other Authors

Page 125 of 831

حیاتِ نور — Page 125

۱۲۵ کرم سے ایسی دعا کی توفیق بخشے جو اپنے جمیع شرائط کے جامع ہو۔یہ امر کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔اس کے مرضات حاصل کرنے کے لئے اگر آپ خفیہ طور سے اپنے فرزند دلبند کی شفا حاصل ہونے پر اپنے دل میں کچھ نذر مقرر کر لیں تو عجب نہیں کہ وہ نکتہ نواز جو خود اپنی ذات میں کریم و رحیم ہے آپ کی اس صدقہلی کو قبول فرما کر ورطہ عموم سے آپ کو مخلصی عطا فرمادے۔وہ اپنے مخلص بندوں پر ان کے ماں باپ سے بہت زیادہ رحم کرتا ہے۔اس کو نذروں کی کچھ حاجت نہیں مگر بعض اوقات اخلاص آدمی کا ایسی راہ سے محقق ہوتا ہے۔استغفار اور تضرع اور تو بہ بہت ہی عمدہ چیز ہے۔اور بغیر اس کے سب نذریں بیچ اور بیسود ہیں۔اپنے مولا پر قوی امید رکھے اور اس کی ذات بابرکت کو سب سے زیادہ پیارا بنائے کہ وہ اپنے قوی الیقین بندوں کو ضائع نہیں کرتا اور اپنے کچے رجوع دلانے والوں کو ورطۂ عموم میں نہیں چھوڑتا۔رات کے آخری پہر میں اُٹھو اور وضو کرو اور چند دوگانہ اخلاص سے بجا لا ؤ اور دردمندی اور عاجزی سے یہ دعا کرو کہ ”اے میرے محسن اور میرے خدا۔میں تیرا ایک ناکارہ بندہ پر معصیت اور پر غفلت ہوں۔تو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا۔اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا۔تو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بیشمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔سواب بھی مجھے نالائق اور پُر گناہ پر رحم کر اور میری جیبا کی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے اور کوئی چارہ گر نہیں۔آمین ثم آمین۔نگر مناسب ہے کہ بروقت اس دعا کے فی الحقیقت دلی کامل جوش سے اپنے گناہ کا اقرار اور اپنے مولی کے انعام و اکرام کا اعتراف کرے کیونکہ صرف زبان سے پڑھنا کچھ چیز نہیں۔جوش دلی چاہئے اور رقت اور گر یہ بھی۔یہ دعا معمولات اس عاجز کے مطابق ہے۔والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ ۲۱ /اگست ۱۸۸۵ء "