حیاتِ نور

by Other Authors

Page 115 of 831

حیاتِ نور — Page 115

ـور ۱۱۵ سخت گھبرایا اور متحیر ہو کر بولا اچھا دیکھا جاوے گا۔میں تو چونکہ مجھے ایک تازہ چوٹ اس وقت لگی تھی۔فورا اس اشتہار کے مطابق اس امر کی تحقیق کے واسطے قادیان کی طرف چل پڑا۔اور روانگی سے پہلے اور دوران سفر میں اور پھر قادیان کے قریب پہنچ کر قادیان کو دیکھتے ہی نہایت اضطراب اور کپکپا دینے والے دل سے دعائیں کیں۔جب میں قادیان پہنچا تو جہاں میرا یکہ ٹھہرا۔وہاں ایک بڑا محراب دار دروازہ نظر آیا۔جس کے اندر چار پائی پر ایک بڑازی وجاہت آدمی بیٹھا نظر آیا۔میں نے یکہ بان سے پوچھا کہ مرزا صاحب کا مکان کونسا ہے؟ جس کے جواب میں اس نے اس رشائل مشتبہ داڑھی والے کی طرف جو اس چار پائی پر بیٹھا تھا، اشارہ کیا کہ یہی مرزا صاحب ہیں۔مگر خدا کی شان ! اس کی شکل دیکھتے ہی میرے دل میں ایسا انقباض پیدا ہوا کہ میں نے یکے والے سے کہا کہ ذرا ٹھہرو میں بھی تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا اور وہاں میں نے تھوڑی دیر کے واسطے بھی ٹھہر نا گوارا نہ کیا۔اس شخص کی شکل ہی میرے واسطے ایسی صدمہ وہ تھی کہ جس کو میں ہی سمجھ سکتا ہوں۔آخر طوعاً و کرہا میں اس (مرزا امام الدین ) کے پاس پہنچا۔میرا دل ایسا منقبض اور اس کی شکل سے متنفر تھا کہ میں نے السلام علیک تک بھی نہ کہا کیونکہ میرا دل برداشت ہی نہیں کرتا تھا۔الگ ایک خالی چار پائی پڑی تھی۔اس پر میں بیٹھ گیا۔اور دل میں ایسا اضطراب اور تکلیف تھی کہ جس کے بیان کرنے میں وہم ہوتا ہے کہ لوگ مبالغہ نہ سمجھیں۔بہر حال میں وہاں بیٹھ گیا۔دل میں سخت متحیر تھا کہ میں یہاں آیا کیوں؟ ایسے اضطراب اور تشویش کی حالت میں اس مرزا نے خود ہی مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں۔میں نے نہایت روکھے الفاظ اور کبیدہ کبیدہ دل سے کہا کہ پہاڑ کی طرف سے آیا ہوں۔تب اس نے جواب میں کہا کہ آپ کا نام نورالدین ہے؟ اور آپ جموں سے آئے ہیں؟ اور غالباً آپ مرزا صاحب کو ملنے آئے ہوں گے؟ بس یہ لفظ تھا جس نے میرے دل کو کسی قدر ٹھنڈا کیا اور مجھے یقین ہوا کہ یہ شخص جو مجھے بتایا گیا ہے مرزا صاحب نہیں ہیں۔میرے دل نے یہ بھی گوارا نہ کیا کہ میں اس سے پوچھتا کہ آپ کون ہیں؟ میں نے کہا ہاں اگر آپ مجھے مرزا