حیاتِ نور — Page 116
صاحب کے مکانات کا پتہ دیں تو بہت ہی اچھا ہوگا۔اس پر اس نے ایک آدمی مرزا صاحب کی خدمت میں بھیجا اور مجھے بتایا کہ ان کا مکان اس مکان سے باہر ہے۔اتنے میں حضرت اقدس نے اس آدمی کے ہاتھ لکھ بھیجا کہ نماز عصر کے " وقت آپ ملاقات کریں۔یہ بات معلوم کر کے میں معا اُٹھ کھڑا ہوا۔چنانچہ آپ اس وقت سیڑھیوں سے اُترے۔تو میں نے دیکھتے ہی دل میں کہا کہ یہی مرزا ہے اور اس پر میں سارا ہی قربان ہو جاؤں۔"حضرت اقدس تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا کہ میں ہوا خوری کے واسطے جاتا ہوں کیا آپ بھی ہمارے ساتھ چلیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں۔چنانچہ آپ دور تک میرے ساتھ چلے گئے اور مجھے یہ بھی فرمایا کہ امید ہے کہ آپ جلد واپس آ جاویں گے۔حالانکہ میں ملازم تھا اور بیعت وغیرہ کا سلسلہ بھی نہیں تھا۔چنانچہ پھر میں آ گیا اور ایسا آیا کہ یہیں کا ہو رہا۔مومن میں ایک فراست ہوتی ہے۔راستے میں میں نے اپنا ایک رؤیا بیان کیا جس میں میں نے نبی کریم کو دیکھا تھا اور عرض کیا تھا حضرت ابو ہریرہ کو آپ کی احادیث بہت کثرت سے یاد تھیں؟ اور کیا وہ آپ کی باتوں کو ایک زمانہ بعید تک بھی نہیں بھولا کرتے تھے ؟ آپ نے فرمایا۔ہاں۔میں نے عرض کیا۔کیا کوئی تدبیر ہوسکتی ہے کہ جس سے آپ کی حدیث نہ بھولے۔آپ نے فرمایا کہ وہ قرآن شریف کی ایک آیت ہے جو میں تمہیں کان میں بتا دیتا ہوں۔چنانچہ آپ نے اپنا منہ مبارک میرے کان کی طرف جھکایا اور دوسری طرف معا ایک شخص نورالدین نام میرے شاگرد نے مجھے بیدار کر دیا۔اور کہا کہ ظہر کا وقت ہے۔آپ اُٹھیں۔یہ ایک ذوقی بات تھی کہ میں نے مرزا صاحب کے سامنے اسے پیش کیا کہ کیوں وہ معاملہ پورا نہ ہوا؟ اس پر آپ کھڑے ہو گئے اور میری طرف منہ کر کے ذیل کا شعر پڑھا: من ذره از آفتابم هم از آفتاب گویم نه شبم نه شب پرستم که حدیث خواب گویم پھر فرمایا کہ جس شخص نے آپ کو جگایا تھا اس کے ہم معنی کوئی آیت قرآن کریم