حیاتِ نور

by Other Authors

Page 114 of 831

حیاتِ نور — Page 114

11 مخالفین اسلام کے لئے نشان نمائی کی دعوت کا ایک اشتہار شائع فرمایا تو اتفاقاوہ اشتہار آپ کو ریاست کے وزیر اعظم کی وساطت سے مل گیا۔آپ نے اس قصہ کی روئداد خود اپنے قلم سے لکھی ہے۔آپ فرماتے ہیں: حضرت مرزا صاحب کا خیال مجھے پہلے پہلے اس بات سے پیدا ہوا کہ ایک بڑا انگریزی تعلیمیافتہ اور بہت بڑا عہدیدار شخص جو مسلمان کہلا تا تھا۔میر ا اس سے حضرت نبی کریم کی نبوت کے معاملہ میں مباحثہ ہوا۔کیونکہ وہ ایسے دعاوی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا آخر کار دوران گفتگو میں اس نے تسلیم کیا کہ میں حضرت محمد رسول اللہ کو خاتم النبین یقین کرتا ہوں لہذا اس معاملہ میں میں اب بحث نہیں کرتا۔میں نے اس سے پو چھا۔بھلا ختم نبوت کی کوئی دلیل تو بیان کرو۔کیونکہ میرا خیال تھا کہ اس شخص نے اس وقت یہ اقرار صرف پیچھا چھڑانے کی غرض سے کر لیا ہے۔چنانچہ میر اوہ خیال درست نکلا۔اور اس نے یہ جواب دیا کہ انحضرت کی کمال دانائی اور عاقبت اندیشی اس امر سے مجھے معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے ختم نبوت کا دعویٰ کیا کیونکہ آپ زمانہ کی حالت سے یہ یقین کر چکے تھے کہ لوگوں کی عقلیں اب بہت بڑھ گئی ہیں اور کہ آئندہ ایسا زمانہ اب نہیں آئے گا کہ لوگ کسی کو مرسل یا مبط وحی مان سکیں۔اسی بناء پر آپ نے (نعوذ باللہ ) دعوی کر دیا کہ میں ہی خاتم النبین ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں آپ کو بڑے اعلیٰ درجہ کا وانا اور عاقبت اندیش انسان مانتا ہوں۔میں نے اس دلیل کو سنکر بہت ہی رنج کیا اور میرے دل کو سخت صدمہ اور دُکھ پہنچا کہ یہ شخص بڑا ہی محجوب ہے اور بیباک ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ یہ اولیائے کرام کے حالات سے بھی نابلد محض ہے۔اب چونکہ ایک طرف تو اس سے مباحثہ ہوا تھا اور اس کا صدمہ دل پر ابھی باقی تھا۔دوسری طرف وہیں کے پرائم منسٹر نے مجھے حضرت اقدس کا پہلا اشتہار دیا۔جس میں اس سوفسطائی کا ظاہر اور بین جواب تھا۔جو نہی کہ پرائم منسٹر نے مجھے وہ اشتہار دیا میں فوراً اسے لے کر اس عہدیدار کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ دیکھو تمہاری وہ دلیل کیسی غلط اور فنی ہے۔اس وقت بھی ایک شخص نبوت کا مدعی موجود ہے اور کہتا ہے خدا مجھ سے کلام کرتا ہے۔یہ نظر وہ