حیاتِ نور

by Other Authors

Page 45 of 831

حیاتِ نور — Page 45

ـور نے جب اس کو اول ہی کھولا تو میری نظر اس مقام پر پڑی کہ جو سید ہو اور پھر وہ سید بادشاہ بھی ہو۔اس کی تعریف میں یہ کہنا کہ وہ چہار بھی نہیں ، وہ بھنگی بھی نہیں وغیرہ سخت حماقت ہے۔جب ہم نے کہا اللہ تو پھر جو ہر وعرض وغیرہ کی سب صفات تو خود اس کے نام اللہ ہی سے رد ہو گئیں۔یہ دیکھ کر میری طبیعت بڑی خوش ہوئی۔پھر میں نے اس کتاب کو خود مہیا کیا اور اب الحمد للہ میرے پاس کتب خانہ میں موجود ہے۔میں نے اس کو بہت پڑھا ہے۔وہ تصوف کی ایک کتاب ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی کئی کتابوں کا نام فصل الخطاب رکھا ہے“۔"" محمد بن حضرمی کا استغنا محمد بن ناصر حضرمی جن کا اوپر ذکر ہوا تھا، ایک بہت ہی مستغنی آدمی تھے۔حضرت منشی صاحب نے ان کا ایک قصہ آپ کو سُنایا کہ ایک مرتبہ وہ میرے مکان پر تشریف لائے۔چونکہ بڑے نیک اور مشہور آدمی تھے۔میں نے ایک ہزار روپیہ کی تھیلی اُن کے سامنے رکھ دی۔یہ دیکھ کر ان کے چہرہ پر بڑا تغیر اور خفگی کے آثار نمایاں ہوئے۔میں نے وہ تھیلی فوراً اُٹھا کر اپنے سامنے رکھ لی۔تو اُن کے چہرہ پر بشاشت کے آثار نمایاں ہوئے۔فرمایا ہمارا ارادہ آپ کو حدیث سنانے کا تھا مگر جب آپ نے روپیہ رکھا تو ہمیں رنج ہوا کہ یہ تو دنیا دار آدمی ہے۔ہم حدیث کے مطابق روپیہ تو لے لیتے مگر پھر حدیث نہ سناتے۔اب معلوم ہوا کہ تم بڑے ذہین آدمی ہو اس لئے ضرور آیا کریں گے اور تم کو حدیث سنائیں گے۔پھر فرمایا کہ ہم کرو پی کی ضرورت نہیں۔کھجوریں ہمارے گھر کی ہیں جو سال بھر کے لئے کافی ہوتی ہیں اور اونٹ بھی ہمارے گھر میں ہیں۔ہم ہر سال حج کے موقعہ پر ایک طرف اونٹ پر کھجوریں لاد لیتے ہیں اور دوسری طرف غلام کو سوار کر لیتے ہیں۔پانی کا مشکیزہ اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور کسی چیز کی الحمد للہ ہمیں ضرورت نہیں۔منشی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ حضرمی صاحب جب بات کرتے تھے تو بہت جلد جلد بلا تکان زبان سے الفاظ نکالتے تھے مگر کوئی لفظ قرآن وحدیث کے الفاظ سے باہر نہ تھا۔سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔دنیا میں کیسے کیسے عاشق قرآن وحدیث گزرے ہیں۔منشی صاحب کا ایک نمایاں وصف حضرت منشی صاحب میں ایک نمایاں وصف یہ پایا جا تا تھا کہ آپ نے اپنے خرچ پر نا بینا مردوں اور نا بینا عورتوں سے ایک محلہ آباد کیا ہوا تھا۔اُن کی شادیاں بھی کرتے تھے اور جب آنکھوں والے