حیاتِ نور

by Other Authors

Page 46 of 831

حیاتِ نور — Page 46

اول ۶ بچے پیدا ہوتے تو انہیں دیکھ کر بہت ہی خوش ہوتے۔آپ نے ان کی تعلیم کے لئے ایک مدرسہ بھی جاری کیا ہوا تھا۔منشی صاحب اقتصادیات کے بڑے عالم تھے حضرت منشی صاحب اقتصادیات کے بڑے عالم تھے۔ان کے لئے عضلہ کا ایک سیر گوشت روزانہ پکتا تھا۔ایک وقت کھانا کھاتے تھے اور کھانے میں کئی آدمیوں کو شریک کر لیتے تھے۔ایک روز فرمایا: میں جوان تھا جب یہاں تو کر ہوا۔میں نے تین روپیہ سے زیادہ کا گوشت اب تک نہیں کھایا۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول فرماتے ہیں۔مجھ کو سُن کر بہت تعجب ہوا تو فرمانے لگے کہ میں تین روپیہ کا ایک بکرا ہر روز خریدتا ہوں اور نماز فجر کے بعد اس کو ذبح کر دیتا ہوں۔ایک سیر گوشت اس میں سے نکلوا کر باقی پر ایک سپاہی کھڑا کر دیتا ہوں کہ اس سے تین روپیہ وصول کر لے۔وہ باقی گوشت پوست فوراً تین روپیہ میں فروخت ہو جاتا ہے اور لوگ علی اصبح آ کر سب خرید کر لیجاتے ہیں۔اس طرح ہر روز ہم کو تین روپے بچ جاتے ہیں۔1 اس پر آپ متفر ماتے ہیں: یہ طریقہ انہوں نے اپنے بہت سے کھانے پینے میں مقرر کر رکھا تھا مگر مجھ کو تو صرف گوشت کا حال سُنایا تھا۔نصرت الہی کے دو عجیب واقعات بھوپال میں آپ کو بہت سے عجیب واقعات پیش آئے۔لیکن طبی امور سے متعلق دو واقعات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔پہلا واقعہ یہ ہے کہ آپ نے دو نہایت ہی عمدہ صدریاں بنوائی تھیں جن کے پہنے کی ہمیشہ آپ کو عادت تھی۔ایک اُن میں سے چوری ہو گئی۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء کی تقریر میں فرمایا: طالب علمی کے زمانہ میں ایک مرتبہ میں نے نہایت عمدہ صوف لے کر دو صدریاں بنوائیں اور انہیں الگنی پر رکھ دیا مگر ایک کسی نے چرالی۔میں نے اس